راشد رؤف کے گاؤں سے پہلی بار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آنکھوں میں آنسو، ہاتھوں میں تسبیح راشد رؤف کی عمر رسیدہ دادی اپنے پوتے کی حفاظت کی دعا کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرا پوتا بے گناہ ہے اور اس کی رہائی کے لیئے مدد کریں‘۔ کشمیری نژاد برطانوی شہری راشد رؤف کو پاکستانی حکام نے حراست میں لیا اور ان پر یہ الزام ہے کہ وہ برطانیہ سے امریکہ جانے والے طیاروں کو تباہ کرنے کے منصوبہ بنانے والوں میں ایک اہم کردار ہیں۔ لیکن راشد رؤف کی دادی فضیلت بی بی یہ ماننے کے لیئے بالکل تیار نہیں ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ’میرا پوتا بے گناہ ہے اور میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ اس کی حفاظت کرے‘۔ راشد کی دادی میرپور میں چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان واقع گاؤں حویلی بگال میں چار کمروں پر مشتمل پرانے طرز کے ایک گھر رہتی ہیں ان کے ساتھ اسی گھر میں راشد کے والد کی پھوپھی بھی ہی رہتی ہیں۔ اپنے گھر میں بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’میرے پوتے میں کوئی بری عادت یا عیب نہیں تھا اور نہ ہی اس کا کبھی غلط لوگوں سے میل جول رہا ہے‘۔ فضیلت جن کی بینائی کمزور ہے کہتی ہیں کہ ’وہ تو بلی سے بھی ڈرتا تھا اور یہاں تک کہ وہ چیونٹی پر پاؤں رکھنے سے بھی گریز کرتا تھا۔ وہ بہت انسان دوست اور دل میں خدا کا خوف رکھنے والا ہے وہ کیسے انسانوں کو مارنے کی سازش کرسکتا ہے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میرے بچے، پوتے پوتیاں، نواسے اور نواسیاں بہت ہی سادہ لوح ہیں اور سب نماز کے پابند ہیں۔میں آپ سے یہی کہتی ہیں ہوں کہ میرے بچے کی مدد کریں وہ بے گناہ ہے، وہ بہت سادہ ہے اور نہ جانے کس ظالم نے یہ کام کر کے میرے پوتے کو پھنسا دیا‘۔ راشد رؤف کی دادی فضیلت کا کہنا ہے کہ وہ مخلتف اوقات میں بارہ سال برمنگھم میں اپنے بیٹے قاضی رؤف اور بیٹی کے ساتھ رہیں۔انہوں نے دو حج اور دو عمرے کیئے ہیں اور فضیلت بی بی کوئی سوا ماہ قبل ایک سال سے زائد عرصہ برمنگھم میں رہنے کے بعد گھر واپس آگئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چار سال سے ان کا اپنے پوتے راشد رؤف سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ راشد رؤف نے چار سال پہلے برمنگھم میں اپنا گھر چھوڑ دیا تھا اس کے بعد وہ دوبارہ اس گھر نہیں گئے لیکن کشمیر کے علاقے حویلی بگال میں واقع اپنے آبائی گھر بھی کبھی نہیں آئے۔ فضیلت بی بی کی ایک بیٹی بھی ہیں اور ان کے دونوں بچے برطانوی شہری ہیں اور برمنگھم میں آباد ہیں۔ راشد رؤف کے والد قاضی عبدالرؤف ساٹھ کی دھائی میں انگلینڈ گئے اور برمنھگم میں آباد ہوگئے۔ قاضی عبدالرؤف کے راشد رؤف سمیت تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں جب کہ ان کا ایک بیٹا بچپن میں ہی برمنگھم میں وفات پاگیا تھا اور ان کو اپنے آبائی گاؤں حویلی بگال میں دفنایا گیا ہے۔ قاضی عبدالرؤف جن کی برمنگھم میں اپنی بیکری ہے وقتاً فوقتاً اپنے گاؤں آتے رہے ہیں۔ فضیلت بی بی کو اپنے پوتے کی گرفتاری کی خبر اپنے ان رشتے داروں کے ذریعے ملی جنہوں نے یہ خبر اخبارات میں پڑھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کو اپنے بیٹے عبدالرؤف کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ سنا تھا کہ چند ہفتے پہلے وہ اپنے ایک عزیز کی شادی میں شرکت کرنے کے لیئے انگلینڈ سے میرپور آئے تھے لیکن اس بار وہ گاؤں نہیں آئے اور نہ ہی میری ان سے ملاقات ہوئی‘۔ شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ کوئی ڈیڑھ ہفتے سے ان کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ عمر رسیدہ خاتوں کی یہ دعا ہے کہ ان کا پوتا محفوظ رہے اور وہ اسے اپنی زندگی میں ایک بار پھر اپنے قریب دیکھ سکیں۔ |
اسی بارے میں ’طیارہ سازش: سرغنہ افغانستان میں‘18 August, 2006 | آس پاس ’پاکستان کی نہ تصدیق نہ تردید‘17 August, 2006 | پاکستان ’ملزم کے القاعدہ سے قریبی روابط‘ 15 August, 2006 | پاکستان پاکستانی پریس: مبینہ دہشتگردی منصوبہ 11 August, 2006 | پاکستان پاکستان میں گرفتار کا نام راشد رؤف11 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||