BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 August, 2006, 00:49 GMT 05:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راشد رؤف کے گاؤں سے پہلی بار

فضیلت بی بی
’میرا پوتا بے گناہ ہے اور میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ اس کی حفاظت کرے‘
آنکھوں میں آنسو، ہاتھوں میں تسبیح راشد رؤف کی عمر رسیدہ دادی اپنے پوتے کی حفاظت کی دعا کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرا پوتا بے گناہ ہے اور اس کی رہائی کے لیئے مدد کریں‘۔

کشمیری نژاد برطانوی شہری راشد رؤف کو پاکستانی حکام نے حراست میں لیا اور ان پر یہ الزام ہے کہ وہ برطانیہ سے امریکہ جانے والے طیاروں کو تباہ کرنے کے منصوبہ بنانے والوں میں ایک اہم کردار ہیں۔

لیکن راشد رؤف کی دادی فضیلت بی بی یہ ماننے کے لیئے بالکل تیار نہیں ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ’میرا پوتا بے گناہ ہے اور میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ اس کی حفاظت کرے‘۔

راشد کی دادی میرپور میں چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان واقع گاؤں حویلی بگال میں چار کمروں پر مشتمل پرانے طرز کے ایک گھر رہتی ہیں ان کے ساتھ اسی گھر میں راشد کے والد کی پھوپھی بھی ہی رہتی ہیں۔

اپنے گھر میں بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’میرے پوتے میں کوئی بری عادت یا عیب نہیں تھا اور نہ ہی اس کا کبھی غلط لوگوں سے میل جول رہا ہے‘۔

فضیلت جن کی بینائی کمزور ہے کہتی ہیں کہ ’وہ تو بلی سے بھی ڈرتا تھا اور یہاں تک کہ وہ چیونٹی پر پاؤں رکھنے سے بھی گریز کرتا تھا۔ وہ بہت انسان دوست اور دل میں خدا کا خوف رکھنے والا ہے وہ کیسے انسانوں کو مارنے کی سازش کرسکتا ہے‘۔

گاؤں
چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان واقع گاؤں حویلی بگال

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے بچے، پوتے پوتیاں، نواسے اور نواسیاں بہت ہی سادہ لوح ہیں اور سب نماز کے پابند ہیں۔میں آپ سے یہی کہتی ہیں ہوں کہ میرے بچے کی مدد کریں وہ بے گناہ ہے، وہ بہت سادہ ہے اور نہ جانے کس ظالم نے یہ کام کر کے میرے پوتے کو پھنسا دیا‘۔

راشد رؤف کی دادی فضیلت کا کہنا ہے کہ وہ مخلتف اوقات میں بارہ سال برمنگھم میں اپنے بیٹے قاضی رؤف اور بیٹی کے ساتھ رہیں۔انہوں نے دو حج اور دو عمرے کیئے ہیں اور فضیلت بی بی کوئی سوا ماہ قبل ایک سال سے زائد عرصہ برمنگھم میں رہنے کے بعد گھر واپس آگئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چار سال سے ان کا اپنے پوتے راشد رؤف سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ راشد رؤف نے چار سال پہلے برمنگھم میں اپنا گھر چھوڑ دیا تھا اس کے بعد وہ دوبارہ اس گھر نہیں گئے لیکن کشمیر کے علاقے حویلی بگال میں واقع اپنے آبائی گھر بھی کبھی نہیں آئے۔

فضیلت بی بی کی ایک بیٹی بھی ہیں اور ان کے دونوں بچے برطانوی شہری ہیں اور برمنگھم میں آباد ہیں۔ راشد رؤف کے والد قاضی عبدالرؤف ساٹھ کی دھائی میں انگلینڈ گئے اور برمنھگم میں آباد ہوگئے۔

قاضی عبدالرؤف کے راشد رؤف سمیت تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں جب کہ ان کا ایک بیٹا بچپن میں ہی برمنگھم میں وفات پاگیا تھا اور ان کو اپنے آبائی گاؤں حویلی بگال میں دفنایا گیا ہے۔ قاضی عبدالرؤف جن کی برمنگھم میں اپنی بیکری ہے وقتاً فوقتاً اپنے گاؤں آتے رہے ہیں۔

فضیلت بی بی کو اپنے پوتے کی گرفتاری کی خبر اپنے ان رشتے داروں کے ذریعے ملی جنہوں نے یہ خبر اخبارات میں پڑھی۔

گھر
راشد کی دادی میرپور میں چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان واقع گاؤں حویلی بگال میں چار کمروں پر مشتمل پرانے طرز کے ایک گھر رہتی ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ان کو اپنے بیٹے عبدالرؤف کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ سنا تھا کہ چند ہفتے پہلے وہ اپنے ایک عزیز کی شادی میں شرکت کرنے کے لیئے انگلینڈ سے میرپور آئے تھے لیکن اس بار وہ گاؤں نہیں آئے اور نہ ہی میری ان سے ملاقات ہوئی‘۔ شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ کوئی ڈیڑھ ہفتے سے ان کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

عمر رسیدہ خاتوں کی یہ دعا ہے کہ ان کا پوتا محفوظ رہے اور وہ اسے اپنی زندگی میں ایک بار پھر اپنے قریب دیکھ سکیں۔

پولیس اہلکاربرطانیہ میں گرفتاریاں
مقامی لوگ، ہمسائے کیا کہتے ہیں۔
اخباردہشتگرد منصوبہ
امریکی میڈیا میں پاکستان کی باتیں
مسلم کمیونٹی کا خط
بلیئر سے خارجہ پالیسی تبدیل کرنے کامطالبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد