راشد رؤف کے بدلے حیربیار مری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے کہا کہ ہے کہ برطانوی حکومت کو مطلوب پاکستانی نژاد برطانوی شہری راشد رؤف کے خلاف تحقیقات جاری ہیں جن کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ انہیں برطانیہ کے حوالے کیا جائے یا نہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے دورے کے موقع پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے کہا کہ اگر راشد رؤف کو برطانیہ کے حوالے کیا گیا تو پاکستان بھی برطانیہ سے دو پاکستانیوں کو واپس بھیجنے کی درخواست کرے گا، تاہم وزیر داخلہ نے ان افراد کے نام نہیں بتائے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اور وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ نہ ہونے کی وجہ پاکستان میں سزائے موت کا قانون ہے۔ پاکستان نے اس معاہدے کی عدم موجودگی میں کچھ عرصہ قبل دو پاکستانیوں کو برطانیہ کے حوالے کیا تھا جو مبینہ طور پر سکاٹ لینڈ میں ایک قتل کے مقدمے میں ملوث تھے۔ برطانیہ میں گرفتار ہونے والے دو پاکستانیوں، حیربیار مری اور فیض بلوچ، کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ اس ضمن میں دفتر خارجہ سے معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں تاہم انہوں نے اس ضمن میں مزید پیش رفت کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔
سابق وزراء اعظم بینطیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی طرف سے صدر اور فوج پر ملک میں بدامنی پھیلانے کے الزام کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں حامد نواز نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال تسلی بخش ہے جس کی وجہ سے امیدوار اپنی انتحابی مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتخابات کے سلسلے میں ماحول ساز گار ہے۔ سوات میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن اور ملک میں ایمرجنسی اٹھانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سوات میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن مکمل ہونے کو ہے جس میں متعدد شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں اور بہت سے گرفتار ہوچکے ہیں اور علاقے میں سول انتظامیہ نے انتظامی کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ ملک میں ایمرجنسی پندرہ دسمبر کو اٹھا لی جائے گی۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو ان کے گھروں میں نظر بندی کے بارے میں وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ مکمل آزاد ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوس ایشن کے صدر اعتزاز احسن کی نظر بندی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں تین ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اورصوبائی معاملہ ہے اور وزارت داخلہ اس ضمن میں صوبہ پنجاب کے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ اعتزاز احسن اور دیگر پانچ افراد جو ابھی تک پولیس کی تحویل میں ہیں جلد از جلد رہا ہوجائیں۔ اس سے پہلے ایف آئی اے میں امیگریشن سٹاف کے نئے یونیفارم کے معائنے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے حکومت کی آنکھ اور کان ہے اور اس ادارے کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے پاکستان کا تشخص اقوام عالم میں بہتر ہوا ہے۔ |
اسی بارے میں حیربیار پر دہشت گردی کا مقدمہ11 December, 2007 | پاکستان حیربیار پاکستان کو مطلوب:وزارتِ داخلہ11 December, 2007 | پاکستان ڈیرہ بگٹی میں جھڑپ، ایک ہلاک07 December, 2007 | پاکستان ’بالاچ کے بھائی لندن میں گرفتار‘04 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||