پاکستان سے ایمرجنسی ہٹا لی گئی، مشرف کا قوم سے خطاب آج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے سنیچر کو ایک صدارتی فرمان جاری کر کے ملک میں نافذ ایمرجنسی ہٹا لی ہے اور آئین بحال کر دیا ہے۔ وہ سنیچر کی شام آٹھ بجے قوم سے خطاب بھی کر رہے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے جو فرمان جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ تین نومبر سے پندرہ دسمبر تک ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی معطلی سمیت جو بھی احکامات جاری کیے ہیں انہیں آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہے۔ فرمان کے مطابق ایمرجنسی کے دوران جو بھی احکامات جاری کیےگئے چاہے وہ ججوں کا ’پی سی او‘ کے تحت حلف، اسلام آْباد میں ہائی کورٹ کا قیام، ججوں کی برطرفی اور ان کی پینشن اور مراعات کے قوانین یا آئین میں کی گئی ترامیم، ان کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ پندرہ دسمبر سے ایمرجنسی اٹھانے اور آئین بحال کرنے کے فرمان میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخابات شیڈول کے مطابق (آٹھ جنوری) ہوں گے اور انتخابات کے بعد جس دن صدر پرویز مشرف مناسب سمجھیں گے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کا پہلا اجلاس طلب کریں گے۔ فرمان کے تحت یہ بھی صدر کی صوابدید پر ہوگا کہ وہ کس روز سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے اجلاس بلاتے ہیں۔ صدارتی فرمان میں کہا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں جب بھی ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی معطلی کے حوالے سے کبھی کوئی پیچیدگی پیدا ہو تو صدر اُسے دور کر سکتا ہے۔ سنیچر کے روز ہی ’پی سی او‘ کے حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ اور چاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس، جج صاحبان اور وفاقی شریعت کورٹ کے چیف جسٹس اور ججوں نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے۔ ایوانِ صدر میں ہونے والی ایک تقریب میں صدر نے پہلے پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے والے جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے آئین کے تحت حلف لیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے بارہ ججوں سے حلف لیا۔ سپریم کورٹ کے جن ججوں نے حلف لیا ان میں جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر،جسٹس سید سعید اشہد، جسٹس اعجازالحسن، جسٹس محمد قائم جان، جسٹس محمد موسی کے لغاری،جسٹس اختر شبیر،جسٹس اعجاز یوسف، جسٹس ضیاء پرویز، جسٹس میاں حامد فاروق، جسٹس سید حسین بخاری اور سید زوار حسین جعفری شامل ہیں۔ اس کے بعد صدر پرویز مشرف نے فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس حاذق الخیری اور فیڈ رل شریعت کورٹ کے تین ججوں جن میں ظفر یاسر، صلاح الدین مرزا اور ڈاکٹر فدا محمد خان سے حلف لیا۔ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں گورنروں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے حلف لیا جبکہ بعد ازاں چیف جسٹس صاحبان نے ہائی کورٹ کے دیگر ججوں سے حلف لیا۔ واضح رہے کہ صدر مشرف نے بطور آرمی چیف تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے، آئین معطل کرنے اور ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے احکامات جاری کیے تھے۔ انہوں نے اکتالیس روز قبل یہ احکامات جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ، سندھ اور پشاور ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز سمیت اعلیٰ عدالتوں کے متعدد ججوں کو فارغ کر دیا تھا۔ سنیچر کے روز ایمرجنسی اٹھانے کے باوجود ’پی سی او‘ کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت متعدد جج بحال نہیں کیے گئے ہیں، نہ ہی ذرائع ابلاغ پر پابندیاں ختم کی گئیں ہیں۔ بیشتر برطرف کردہ جج اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔ مسلم لیگ نواز اور جماعت اسلامی سمیت کچھ جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے تین نومبر کے بعد آئین میں کی گئی ترامیم کو قبول نہیں کرتے اور برطرف ججوں کی بحالی بھی چاہتے ہیں۔ ایمرجنسی نافذ کرنے اور آئین معطل کرنے کی وجہ صدر مشرف نے تو ریاست کے اداروں کو ٹکراؤ سے بچانا بتائی تھی لیکن بیشتر قانونی ماہرین، سیاستدان، صحافی اور انسانی حقوق کے نمائندے کہتے ہیں کہ اس کی بڑی وجہ آزاد خیال ججوں سے جان چھڑانا اور آزاد میڈیا کو قابو کرنا تھا۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم کا کہنا ہے کہ آئین کی بحالی کے بعد اب معطل کردہ بنیادی حقوق بحال ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق گرفتار وکلاء، سیاسی کارکن ، عام شہری اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے و مالکان عدالتوں میں اپنی گرفتاریوں اور پابندیوں کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر پرویز مشرف نے چودہ دسمبر کی رات کو آئین کی چھ شقوں میں ترامیم کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔ ان کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ہائی کورٹ کے قیام، تین نومبر کو برطرف کردہ ججوں کو پینشن اور دیگر مراعات دینا، ہائی کورٹ کے ججوں کی بھرتی کی عمر پینتالیس برس سے کم کر کے چالیس برس کرنا اور اپنے آپ کو آرمی چیف ہوتے ہوئے صدر منتخب کرانے کے عمل کو تحفظ دینا شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||