علماء سے خائف مصنف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونس شیخ کسی مذہبی مدرسے سے فارغ التحصیل نہیں، بس میٹرک پاس ہیں لیکن مذہبی کتابوں کے مطالعے سے دینی امور میں پیدا ہونے والی دلچسپی نے ان سے پانچ چھ کتابیں لکھوا ڈالیں۔ ہر نئی کتاب کی تصنیف سے ملنے والا حوصلہ انہیں ایک اور کتاب لکھنے پر مائل کرتا رہا اور اس طرح شوق سے وابستہ تحریر و تصنیف کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ یونس شیخ مذہبی عالم نہیں شاید اسی لیے انکی کتابوں میں مروجہ مذہبی افکار سے ہٹ کر باتیں ملتی تھیں اور پھر وہ خود بھی شاید آج کے دور کے ان علماء سے خائف تھے جو اپنے سینئرز کی رائے سے اختلاف کرنے کو کفر سمجھتے تھے اسی لیے انہوں نے پہلے ’کافر مولوی‘ اور پھر ’شیطان مولوی‘ کے عنوان سے کتابیں لکھ ڈالیں۔ ’کافر مولوی‘ کا تو اتنا نوٹس نہیں لیا گیا لیکن ’شیطان مولوی‘ پر ایک صحافی کی نگاہ پڑگئی اور اس نے یہ خبر شائع کر دی کہ اس کتاب میں اس صحافی کے بقول ایک اسلامی فقیہہ اور ایک محدث کی شان میں گستاخی کے جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ اس خبر کی اشاعت کے فوری بعد کراچی پولیس حرکت میں آئی۔ توہین رسالت اور انسداد دہشتگردی کے قوانین کے تحت ان کے خلاف تیس جنوری 2005ء کو مقدمہ بنا اور یونس شیخ کو گرفتار کیا گیا۔ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کی تاہم مقدمے کی سماعت کی ابتداء میں ہی یونس شیخ کے وکیل نے عدالت میں ان کی پیروی کرنے سے معذرت کرلی جس پر ان کی پیروی کے لیے سرکاری وکیل مقرر کیا گیا اور عدالت کے جج ارشد نور نے یونس شیخ کو عمر قید یعنی پچیس سال قید بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ لیکن یونس شیخ نے ہمت نہیں ہاری اور اس سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی جس میں انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے انہیں وکیل فراہم کیا۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے سماعت کے بعد اپیل کو منظور کرتے ہوئے سزا کو کالعدم قرار دیدیا اور ماتحت عدالت کو مقدمے کےدوبارہ سماعت کرنے کی ہدایت کی۔
جیل میں پڑے یونس خان کے لیے یہ یقیناً اچھی خبر تھی البتہ خصوصی عدالت کے جج ساغر زیدی نے ان کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کے بعد 23 جولائی 2007 کو جو فیصلہ دیا اس میں بھی انہیں جرم کا مرتکب قرار دیا گیا۔نظرثانی شدہ فیصلے میں ان کی سزا تقریباً دوگنی کردی گئی۔ فاضل عدالت نے انہیں اس بار پینتالیس سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان کے وکیل جاوید اقبال برقی نے بتایا ہے کہ یونس شیخ کو دوبارہ ہوئی سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں ایک بار پھر اپیل داخل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان کے مؤکل نے اپنی کتاب میں قرآن و حدیث کے بارے میں کوئی توہین آمیز بات نہیں لکھی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’شیطان مولوی‘ میں ’یونس خان نے کسی فرقے کے ماننے والوں کے مذہبی جذبات کو مجروح نہیں کیا‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یونس شیخ کی کتاب کے جن حصوں کو توہین آمیز کہا گیا ہے وہ جہاد، رجم یعنی سنگساری کی سزا اور طلاق سے متعلق ہے۔ ’رجم کے بارے میں انہوں نے تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔‘ یونس شیخ کے وکیل کہتے ہیں کہ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے ججوں نے صرف مفتیوں کے بیانات کی بنیاد پر ان کے مؤکل کو سزا سنائی اور اس بارے میں آزاد مسلمان دانشوروں اور اساتذہ سے کوئی رائے نہیں لی۔ جاوید اقبال برکی کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار رائے پاکستان کے ہر شہری کا حق ہے اور علماء کو کسی کو بھی اختلاف رائے کی بنیاد پر کافر اور واجب القتل قرار دینے سے گریز کرنا چاہیے اور ایسی باتوں کا عدلیہ کو بھی نوٹس لینا چاہیے۔ سزا کے خلاف یونس شیخ کی اپیل کی سماعت کے لیے منظور ہوگئی ہے اور ان کے وکیل کے مطابق عدالت نے مقدمے کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور اسکی سماعت آئندہ ماہ متوقع ہے۔ | اسی بارے میں کھاریاں: توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2007 | پاکستان ’احمدی آسان ہدف بن چکے ہیں‘ 07 May, 2007 | پاکستان ’توہینِ رسالت‘ پر سزائے موت30 March, 2007 | پاکستان پانچ عیسائیوں پر مقدمات05 April, 2007 | پاکستان ’احمدیوں کے خلاف تعصب کا سال‘10 March, 2007 | پاکستان توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ03 February, 2007 | پاکستان ’موت کی سزا ختم کی جائے‘25 January, 2007 | پاکستان ’توہینِ مذہب کیس ریاستی اجازت سے‘31 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||