پانچ عیسائیوں پر مقدمات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پولیس نے پانچ عیسائی افراد کے خلاف توہین رسالت اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد ایک کوگرفتار کرلیا ہے۔ مختلف ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق معاملہ دو بچّوں کی لڑائی سے شروع ہوا تھا، لیکن بعد میں اس جھگڑے نے مسلم عیسائی مسلم تنازعہ کی شکل اختیار کر لی۔ شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ سٹی میں درج کئے گئے مقدمے کے مدعی عبدالغفار نے کہا ہے کہ چار روز قبل ان کا بھتیجا فیصل عیدمیلاد النبی کے جلوس میں شرکت کے لیے جارہا تھا جب اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کی قمیض پر لگے ایک سٹیکر کو مبینہ طور پر زمین پر پھینک کر توھین کی گئی جس پر مسلمانوں کے لیے مقدس نام اور نقش بنے ہوئے تھے۔ مقدمے کے مدعی عبدالغفار نے یہ بھی کہا ہے کہ بعد میں پانچ عیسائی افراد نے ان کے گھر پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی اور اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
انسانی حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم ہیومن ڈویلپمنٹ سینٹر کے عہدیدار عاطف جمیل کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے جواب میں مسلمانوں کے ایک ہجوم نے مقامی عیسائی بستی پر حملہ کر دیا۔ اس دوران کئی گھروں پر پتھراؤ جبکہ متعدد افراد کو زدوکوب بھی کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو حملے پر اکسانے کے لیے مسجدوں سے اعلانات کیےگئے اور ایک مقامی نجی ٹی وی چینل کی خاتون رپورٹر نے ڈیڑھ سو سے زائد لٹھ بردار خواتین کا جلوس نکال کر تھانے کا گھیراؤ کیا تھا۔ عاطف جمیل نے کہا کہ اسی جلوس کے دباؤ میں پولیس نے پانچ عیسائی افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے لڑائی کرنے والے عیسائی بچے کے والد کو حراست میں لے لیا۔ مقامی عیسائی رہنما فادر بونی مینڈیس نے کہا کہ مسلمانوں نے اپنے حملے کےدوران پچیس برس کے ایک ایسے لڑکے کو بھی زدوکوب کیا جو ذہنی اور جسمانی طور پر معذور تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے حملے اور معذور لڑکے پر تشدد کے خلاف انہوں نے تھانہ میں درخواست دی لیکن پولیس نے ان کی درخواست پر عملدرآمد کرنے کی بجائے الٹا عیسائی لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ ضلعی پولیس افسر راجہ منور نے بی بی سی کو بتایا کہ عیسائیوں کی بستی پر حملہ کرنے کے الزام میں ایک مسلمان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
دینبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے امیر زاہد ستار نے کہا کہ یہ لڑائی دو بچوں کے درمیان ہوئی تھی اور اگر اس کا مقدمہ توہین رسالت کے تحت درج کیا گیا ہے تو اس پر انہیں بھی حیرانی ہے۔ تھانہ سٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ میں درج ایف آئی آر میں لڑائی جھگڑے کے علاوہ توہین رسالت کی دفعہ دو سو پچانوے سی اور توہین مذہبی عقائد کی دفعہ دو سو پچانوے اے بھی لگائی گئی ہیں۔ تعزیرات پاکستان کے تحت دوسو پچانوے سی کی سزا موت اور دوسو پچانوے اے کی سزا دس برس قید ہے۔ پاکستان میں توہین رسالت کا یہ قانون فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور میں بنایا گیا تھا اور تب سے انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے تنقید کا نشانہ بناتی ہیں اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے جس کا نقصان پاکستان کی اقلیتوں کو پہنچتا ہے ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مقدمات ذاتی انتقام کی بنیاد پر درج کیے جاتے ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی گول بستی میں واقعہ کے بعد مسلم اور عیسائی آباد کی درمیان کشیدگی کاماحول ہے۔ | اسی بارے میں ’توہینِ مذہب کیس ریاستی اجازت سے‘31 October, 2006 | پاکستان ’موت کی سزا ختم کی جائے‘25 January, 2007 | پاکستان توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ03 February, 2007 | پاکستان احمدیوں کے خلاف تعصب کا سال09 March, 2007 | پاکستان ’احمدیوں کے خلاف تعصب کا سال‘10 March, 2007 | پاکستان ’توہینِ رسالت‘ پر سزائے موت30 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||