کھاریاں: توہین رسالت کا ملزم قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے شہر کھاریاں میں ایک پولیس کانسٹیبل نےحوالات میں فائرنگ کر کے توہین رسالت کے ایک ملزم کو ہلاک جبکہ دوسرے کو زخمی کردیا ہے۔ کانسٹیبل نے قتل کے بعد خود کوگرفتاری کے لیے پیش کردیا جس پر مقامی عدالت نے انہیں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق قتل ہونے والے ملزم میاں قاسم پر الزام تھا کہ وہ مذہبی لحاظ سے متنازعہ دو کتب کی اشاعت میں ملوث تھے۔ گجرات پولیس نے ان کتابوں یعنی’ذلت‘ اور ’ایک مولانا ایک کافر‘ کے مصنف سمیت پانچ افراد کے خلاف توہین رسالت کے قانون (دو سو پچانوے سی) کے تحت مقدمہ درج کر کے چار افراد کو گرفتار کیا تھا۔ گجرات کے سکیورٹی انسپکٹر کی رپورٹ پر اس مقدمے کے اندارج سے قبل ہی مصنف اثر چغتائی بیرون ملک فرار ہوگئے تھے جبکہ میاں قاسم سمیت چار افراد کوگزشتہ ہفتے کےدوران گرفتار کر لیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والے افراد ان کتابوں کی اشاعت سے تقریب رونمائی تک کے مراحل میں شریک تھے۔میاں قاسم نے یہ کتابیں کمپوز کی تھیں۔ گجرات کے ضلعی پولیس افسر احسن محبوب رضوی نے بی بی سی بتایا کہ مقدمہ کی حساسیت کے پیش نظر ملزمان کو گجرات سے کھاریاں کینٹ کی حوالات منتقل کیا گیا تھا اور پولیس کا خیال تھا کہ وہ وہاں زیادہ محفوظ رہیں گے لیکن ہوا اس کے برعکس۔ ڈی پی او نے کہا کہ ملزم نے یہ قتل ’جذبہ ایمانی‘ کے تحت کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کانسٹیبل ثاقب نے سرکاری ڈیوٹی پر جانےکے لیے رائفل لی تھی لیکن وہ ڈیوٹی پر جانے کی بجائے حوالات پہنچ گئے اور مختصر سوال جواب کے بعد فائرنگ کر کے ایک ملزم کو قتل اور دوسرے کو زخمی کردیا۔ گرفتاری کے بعد کانسٹیبل نے مقامی اخبارنویسوں کو بتایا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ ملزموں کو گجرات جا کر قتل کریں لیکن جب ملزم خود تھانہ کھاریاں کینٹ آ گئے تو انہوں نے اطمینان سے انہیں ہلاک کر دیا۔ملزم کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے اقدام پر کوئی پشیمانی نہیں ہے۔ انسانی حقوق اور اقلیتوں کی تنظیمیں توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اقلیتوں اور پسماندہ افراد کو ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں توہین رسالت کے جرم کی سزا موت ہے لیکن آج تک کسی ملزم کو موت کی سزا پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ ایسے مقدمات میں ماتحت عدالتوں کی جانب سے ملنے والی موت کی کئی سزائیں اعلیٰ عدالتوں سے کالعدم قرار دی گئیں۔ جن افراد کے خلاف توہین رسالت کے مقدمات درج ہوئے ان میں سے کئی کو بعد میں قتل یا زخمی کر دیا گیا اور متعدد کو بیرون ملک پناہ لینی پڑی ہے۔ مئی سنہ دو ہزار چار میں بھی لاہور میں توہین رسالت کے زیرحراست ملزم سمیوئل مسیح کو بھی ایک کانسٹیبل نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ پچھے برس جون میں بھی ایک پولیس کانسٹیبل نے تین بچیوں کے قتل کیس میں گرفتار ان کے باپ کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔ | اسی بارے میں ’توہینِ رسالت‘ پر سزائے موت30 March, 2007 | پاکستان توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ03 February, 2007 | پاکستان توہین قرآن ، دو ملزموں کو سزا25 November, 2006 | پاکستان ’توہینِ قرآن‘ کا دوسرا ملزم ہلاک24 June, 2006 | پاکستان توہین رسالت کا الزام، گرفتاری14 March, 2006 | پاکستان توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||