BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 September, 2007, 11:28 GMT 16:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دریا کنارے نیوی بار بی کیو پر تنازعہ

بار بی کیو
نیوی بار بی کیو کے پلاٹ پر نیوی اور ضلعی انتظامیہ کا جھگڑا چل رہا ہے
دریائے سندھ کے کنارے آباد شہر روہڑی کے قریب پاکستان نیوی کے قائم کردہ بار بی کیو پر سکھر کی ضلعی حکومت نے اعتراض کرتے ہوئے انہیں پلاٹ واپس کرنے کو کہا ہے۔

دریائے سندھ کے کنارے تمام زمین ریوینیو ریکارڈ کے مطابق محکمہ آبپاشی کی ملکیت ہوتی ہے مگر پاکستان میں پہلی بار پاکستان نیوی نے سمندری حدود سے باہر کسی دوسرے محکمے کا پلاٹ حاصل کر کے اسے کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔

نیوی کے سکھر میں تعنیات کمانڈر بخش علی نے بی بی سی کو بتایا کہ دریا کنارے ان کے بار بی کیو کا کاروبار اچھا نہیں چل سکا اس لیے انہوں نے نیول ہیڈکوارٹرز کو اس پلاٹ پر میریج گارڈن یا پلے لینڈ جیسا تفریحی مقام بنانے کی تجویز بھیج دی ہے۔ کیونکہ ان کے مطابق اس ضمن میں کئی کاروباری پارٹیوں نے ان سےرابطہ کیا ہے اور ان کی تجاویز انہوں نے نیول ہیڈکوارٹرز کو ارسال کر دیں ہیں۔

دوسری جانب سکھر ضلعی حکومت کے سربراہ ناصر شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نیوی بار بی کیو پر اعتراض ہے ۔کیونکہ بقول ناصر شاہ نیوی نے کوئی دس بارہ سال قبل دریا کے کنارے قیمتی پلاٹ حاصل کرنے کےوقت جو معاہدہ کیا تھا نیوی نے اس کی کوئی پاسداری نہیں کی۔

دریائے سندھ
نیوی کے بار بی کیو سے دریائے سندھ کا خوبصورت نظارہ نظر آتا ہے

سکھر کےضلعی ناظم کے بقول نیوی نے اس پلاٹ پر واٹر سپورٹ، امیوزمینٹ اور بوٹ کلب قائم کرنے جیسے سنہرے خواب دکھائے تھے مگر انہوں قیمتی پلاٹ کا کاروباری استعمال شروع کیا ہے۔

ناصر شاہ نےمزید کہا کہ اگر نیوی اپنے معاہدے کی پاسداری نہیں کرسکتی تو وہ پلاٹ کا قبضہ چھوڑ دے ضلعی حکومت خود دریا کے کنارے خوبصورت تفریحی پارک کی تعمیر کریگی۔

دریا کے کنارے محکمہ آبپاشی کی زمین نیوی کو کیسے دی گئی اس سلسے میں محکمہ آبپاشی کے ایگزیکیٹو انجنیئر سکھر بیراج ارشاد میمن سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ان کےمحکمے کو ہدایات ملیں تھیں کہ وہ یہ پلاٹ نیوی کے حوالےکر دیں۔

انجینئر ارشاد نے ایک سوال کےجواب میں کہا کہ نیوی کو دریا کی یہ زمین بغیر معاوضہ دی گئی یا نہں اس حوالے سے کوئی بات ان کے علم میں نہیں۔

پلاٹ
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر نیوی اپنے معاہدے کی پاسداری نہیں کرسکتی تو وہ پلاٹ کا قبضہ چھوڑ دے

دوسری جانب نیوی کے کمانڈر بخش علی نے ضلعی حکومت کےاعتراضات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی ناظم کی باتوں کی کوئی حیثیت نہیں اگر انہیں اختیارات ہیں تو وہ نیوی سے پلاٹ کا قبضہ چھڑا لیں۔

نیوی کمانڈر کے مطابق فنڈز کی کمی کے باعث نیوی واٹر سپورٹ اور بوٹ کلب شروع نہیں کر سکی ہے۔ نیول ہیڈ کورارٹرز سے بقول ان کے انہیں پلاٹ کو بہتر بنانے کے لیے کوئی فنڈز مہیا نہیں کیے جاتے۔ نیوی ہیڈ کوارٹرز سے انہیں ہدایات ملیں ہیں کہ اس پلاٹ کا استعمال اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت کیا جائے۔

کمانڈر بخش علی کے مطابق سمندر سے کئی سو میل دور دریا کنارے کسی زمین پر نیوی کے کاروبار کا یہ ان کا پہلا تجربہ ہے۔ان کا کہنا تھا اس پلاٹ کا ریکارڈ نیوی ہیڈ کوارٹرز کےنیوی سٹیٹ آفس میں موجود ہے۔

نیوی بار بی کیو کے بلکل سامنے دریا کے دوسرے کنارے سندھ کےتاریخی قلعہ بکھر میں فوج کا ایک بار بی کیو جانباز کے نام سے کامیابی سے چل رہا ہے۔ جو بقول نیوی کمانڈر پنوعاقل چھاؤنی کے زیر انتظام ہے اور نیوی بار بی کیو کا خیال انہیں جانباز کے بعد ذہن میں آیا تھا۔

ضلعی ناظم سکھر کےمطابق فوج کو دریا میں جزیرہ نما قلعہ کئی سال قبل دفاعی مقاصد کے لیے دیا گیا تھا۔ اگر انہوں نے شہریوں کی سہولیات کے لیے بار بی کیو کھول رکھا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں مگر نیوی کےبار بی کیو پر انہیں ضرور اعتراض ہے۔

جانباز بار بی کیو
جانباز بار بی کیو بہت کامیاب چلا رہا ہے

سکھر صوبہ سندھ کا تیسرا بڑا شہر ضرور ہے مگر شہر کے چھ لاکھ کے قریب مکینوں کے لیے تفریحی مقامات بہت محدود ہیں۔ دریا کے کنارے فوج کے بار بی کیو پر بڑھتا ہوا رش دیکھ کر نیوی نے بھی اپنی دکان سجائی مگر نیوی کو اس کاروبار میں کوئی خاص کامیابی نہ مل سکی ہے۔

روہڑی کے شہری اور وکیل سہیل میمن کا کہنا ہے کہ نیوی کا سمندر کے حدود سے باہر آنا اور کاروبار کرنا ان کے نزدیک اختیارات تجاوز کرنا ہے۔ ’نیوی کو دریا کی زمین متعلقہ محکمہ آبپاشی اور روہڑی میونسپل کو واپس کر دینی چاہیے۔ کیونکہ دریا کی زمین کا وہ ہی بہتر استعمال کرنا جانتے ہیں۔‘

روہڑی شہر کے قریب دریا کے کنارے کئی ہزار فٹ کا یہ پلاٹ خاصی کاروباری اہمیت رکھتا ہے۔ پلاٹ ایک ایسی جگہ پر واقع ہے جہاں دریا کا نظارہ اور کھلی فضا میں تفریح کا لطف ایک ساتھ اٹھایا جا سکتا ہے۔

دریا کنارے کا یہ پلاٹ نیوی کےسابق کمانڈر اور روہڑی کےمکین لیاقت قریشی نے سندھ حکومت سے ایک معاہدے کے بعد نیوی کے قبضے میں دے دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد