BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 March, 2007, 01:26 GMT 06:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چھاؤنی میں چوری پرحکومتی وضاحت

بلوچستان میں فوج
حکومتی اہلکار کے مطابق نئی چھاؤنیوں میں بھی چوریاں ہوتی رہیں گی
وزارت دفاع نے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام میں امن و امان اور سامان چوری ہونے جیسے واقعات کا ویسے ہی سامنا کرنا پڑ رہا ہے جیسے صوبہ سندھ کے شہر پنو عاقل میں چھاؤنی قائم کرتے وقت کرنا پڑا تھا۔

جمعرات کو پارلیمان ہاؤس میں کمیٹی کے چیئرمین ملک اللہ یار کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو وزارت دفاع کے مالی سال سن دو ہزار اور دو ہزار ایک کے لیے منظور کردہ بجٹ پر لگائے گئے آڈٹ اعتراضات کا جواب دینے کے لیے ایڈیشنل سیکریٹری مقبول علی شاہ پیش ہوئے۔

جب ان سے کمیٹی کے اراکین نے پنو عاقل چھاؤنی کے سٹور سے تین لاکھ کے قریب مالیت کا سامان چوری ہونے کے متعلق وضاحت پوچھی تو ایڈیشنل سیکریٹری نے کہا کہ مقامی لوگ چھاؤنی کی تعمیر کے مخالف تھے اور وہاں مزدور وغیرہ سامان بھی چوری کرلیتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان سمیت چوریوں جیسے واقعات کا بلوچستان کے شہروں سبی اور کوہلو میں چھاؤنیوں کی تعمیر کے وقت بھی پیش آرہے ہیں اور اس طرح کے اعتراضات آئندہ بھی سامنے آئیں گے۔

واضح رہے کہ ضلع ڈیرہ بگٹی کے شہر سبی اور کوہلو ضلع کے شہر کوہلو میں فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر جاری ہے اور بعض مقامی قبائل اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے وفاقی حکومت صوبے کے قدرتی وسائل استعمال کرنا چاہتی ہے جبکہ صوبے کو اس کا کم حصہ دیتی ہے۔

دونوں اضلاع میں بگٹی اور مری قبائل کے سرداروں کے حامی سیکورٹی فورسز سے گزشتہ ڈیڑھ برس سے برسر پیکار ہیں۔ مزاحمت کار قبائلی ریاستی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں۔

کمیٹی کے بعض اراکین نے سٹور سے سامان چوری کے واقعات میں ذمہ دار فوجی افسران کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹس کے متعلق وضاحت پوچھی لیکن ایڈیشنل سیکریٹری انہیں مطمئن نہیں کر پائے۔

اجلاس میں آڈٹ رپورٹ کے دس اعتراضات کو نمٹا دیا گیا اور پورے دن کے ایجنڈے کو ایک گھنٹے میں مکمل کرلیا۔

اسی بارے میں
بنوں چھاؤنی پر راکٹ حملہ
12 March, 2006 | پاکستان
فوجی چھاونی سے سیاحت متاثر
21 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد