آڈیٹر جنرل نے بھی اعتراف کر لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آڈیٹر جنرل نے اعتراف کیا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے دفاعی بجٹ کم کرنے کے دباؤ کے بعد پاکستان حکومت نے فوجیوں کی پینشن کی رقم شہری حکومت کے بجٹ میں شامل کردی تھی۔ اس سے قبل گزشتہ سال مئی وزارت مالیات کے سیکریٹری نے بھی اسی کمیٹی کے اجلاس میں سید قربان علی شاہ کے وضاحت طلب کرنے پر اقرار کیا تھا کہ فوجیوں کی پینشن کی رقم دفاعی بجٹ کی بجائے سویلین حکومت کے کھاتے سے ادا کی جا رہی ہے۔ جمعرات کو کمیٹی کے چیئرمین ملک اللہ یار کی صدارت میں جب مالی سال دو ہزار اور دو ہزار ایک بارے میں وزارت دفاع کے بجٹ کے متعلق آڈیٹر جنرل کے اعتراضات پر غور شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی قربان علی شاہ نے اعتراض کیا کہ ریٹائرڈ فوجیوں کے پینشن کی رقم سویلین بجٹ کا حصہ کیوں ہے؟ اس کے جواب میں آڈیٹر جنرل کا آئینی عہدہ رکھنے والے یونس خان نے اعتراف کیا کہ جب فوجیوں کے پینشن کی رقم شہری حکومت کے بجٹ میں شامل کی گئی تھی تو وہ اس وقت وزارت خزانہ میں تعینات تھے اور اس بارے میں فوج کے کہنے پر ایسا نہیں کیا گیا تھا بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ کی وجہ سے کیا تھا۔ اجلاس میں اراکین نے بحریہ اور عسکری فوجی ناموں سے نجی ہاؤسنگ سکیموں پر سخت اعتراضات کیے کہ ایسا کرنے کی اجازت کس نےدی ہے؟۔ جس کے جواب میں سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طارق وسیم غازی نے کہا کہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ ایسا کس نے کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ایجنڈے پر نہیں تھا لیکن وہ معلومات حاصل کرکے کمیٹی کو مطلع کریں گے۔ مولانا غفور حیدری نے دعویٰ کیا کہ ان کی معلومات کی بنا پر کراچی بندرگاہ میں دو دِکے یعنی برتھ امریکی افواج کو دے دی گئی ہیں۔ جس پر سیکریٹری دفاع نے کہا کہ یہ معلومات غلط ہے اور پاکستان نے صرف فوجی ہوائی اڈے امریکی فوج کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی لیکن اب وہ صرف سٹینڈ بائی انتظامات کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اراکین اسمبلی نے فوج کے راشن اور دیگر اشیاء کی خریداری میں شفاف طریقہ کار نہ اپنانے پر بھی اعتراضات کیے اور وزارت دفاع کو ہدایت کی کہ معاملات کو شفاف رکھا جائے اور کوتاہی برتے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
بعض اراکین نے فوج کے لیے راشن اور دیگر اشیاء کی خریداری کے متعلق اعتراضات کیے جس پر متعلقہ حکام نے بتایا کہ مروجہ قوانین کے تحت آرمی چیف کو ایک وقت میں چالیس لاکھ روپے خرچ کرنے کی اجازت ہے۔ حکام کے مطابق انہوں نے حکومت کو سمری بھیجی ہے کہ ایک وقت میں اِتنی رقم آرمی چیف کی اجازت سے کوارٹر ماسٹر جنرل کو استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان کے بقول اس سے فوج کے لیے راشن اور دیگر ضروری اشیاء کا جلد حصول ممکن ہوجائے گا۔ اجلاس میں کچھ اراکین نےکینٹونمینٹ بورڈز اور فوجی چھاؤنیوں میں قائم تعلیمی اداروں میں فوجیوں کے بچوں کی نسبت سویلین کے بچوں سے زیادہ فیس وصول کرنے اور سویلین کے پلاٹوں کی خریداری یا فروخت کی صورت میں زیادہ فیس چارج کرنے کا معاملہ اٹھایا تو فوجی حکام نے اس کا بھرپور دفاع کیا۔ ان کے مطابق فوج کے تعلیمی اداروں اور کینٹونمینٹس سے ہونے والی آمدن ان اداروں کی بہتری اور فلاح کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ کینٹونمینٹس میں رہائش کے مقصد کے لیے حاصل کردہ زمین تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر بھی بعض اراکین نے سخت تنقید کی جس پر فوجی حکام نے کہا کہ یہ فوج کی فلاح کے لیے کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان: فوجی کی ہلاکت پر احتجاج24 January, 2007 | پاکستان میران شاہ:خودکش حملہ،4 فوجی ہلاک22 January, 2007 | پاکستان میران شاہ حملہ،3 فوجی ہلاک22 January, 2007 | پاکستان کوہلو: ’فوجی کارروائی جاری ہے‘21 January, 2007 | پاکستان کوہلو: فوجی آپریشن، ’ہلاکتیں‘19 January, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی 11 January, 2007 | پاکستان فوجی کارروائیاں، ہلاکتیں اور امن معاہدے24 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||