کوہلو: ’فوجی کارروائی جاری ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں سبی اور کوہلو کے سرحدی علاقوں سے تیسرے روز بھی فوجی کارروائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اتوار کو ہونے والی مبینہ کارروائی میں مری قبیلے کے لوگوں نے ہلاکتوں کا دعوٰی بھی کیا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ صوبائی وزیر داخلہ میر شعیب نوشیروانی سے بھی رابطے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ گزشتہ روز فوج کے تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان نے بھی اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس بارے میں صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جائے۔ سبی اور کوہلو کے سرحدی علاقوں سے مری قبیلے کے لوگوں نے دعوٰی کیا ہے کہ اتوار کو سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور پچاس کے لگ بھگ کو گرفتار کر کے سبی لایا گیا ہے۔ بادرہ سے ایک شہری سلیمان مری نے بتایا ہے کہ علاقے میں حالت انتہائی ابتر ہے اور وہ بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان علاقوں میں ان کی مدد کو آئیں۔ مری قبیلے کے ایک اور شہری اللہ بخش نے بتایا ہے کہ گزشتہ دو روز میں ہلاک ہونے والے چودہ افراد کی تدفین کر دی گئی ہے جبکہ باقیوں کی ابھی تک تدفین نہیں ہو سکی۔ انھوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد اب اٹھائیس تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی لشکری رئیسانی سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ بولان سے ڈیرہ مراد جمالی اور اس سے آگے تک بڑی تعداد میں مری اور بگٹی قبیلے کے لوگ کھلے آسمانوں تلے بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران چونکہ عوام کو جوابدہ نہیں ہیں اس لیے انھیں عوام کی پرواہ نہیں۔ لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ ان علاقوں میں فوجی آپریشن ہو رہا ہے لیکن حکومت اسے چھپانے کو کوشش کر رہی ہے۔نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبالحئی نے اس بارے میں کہا کہ وہ ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں اور اس بارے میں تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔ ادھر پاکستا ن پیپلز پارٹی کی اپیل پر بلائی گئی آل پارٹیز کارنفرنس کے فیصلے کے مطابق اتوار کو بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیاسی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور بلوچستان میں حکومتی پالیسوں کی مذمت کی ہے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے موجود سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے۔ مظاہرین نے اس موقع پر اپنی اپنی جماعتوں کے پرچم اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی تصاویر اٹھائی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع جیسے لسبیلہ، خضدار، وڈھ سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان مظاہروں کے دوران پولیس کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ | اسی بارے میں کوہلو آپریشن: بیس ہلاکتوں کا دعویٰ20 January, 2007 | پاکستان کیمپوں کیخلاف کارروائی کریں گے11 July, 2006 | پاکستان سیکیورٹی فورسز کا انخلاء شروع20 December, 2006 | پاکستان کوہلو: بجلی کے کھمبوں پر حملہ26 August, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے: ہیلی کاپٹروں کی پروازیں30 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||