کوہلو: بیس ہلاکتوں کا دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے مری قبیلہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کوہلو اور سبی کے ملحقہ علاقوں میں سنیچر کو بھی فوجی آپریشن جاری رہا اور دو روز سے جاری اس کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس ہو گئی ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر فوجی آپریشن کے بارے میں تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسلام آباد میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں اور بلوچستان کی صوبائی حکومت سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا بھی کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ مری قبیلہ کے لوگوں نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اس کارروائی میں فضائی حملے بھی کیے ہیں۔ ایک شخص اللہ بخش مری نے بتایا کہ فوجی کارروائی جابڑی، بادرہ، ببر، کچھ اور کہشار کے علاقوں میں کی جا رہی ہے۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ وہاں مشتبہ افراد موجود ہوں تو ان کا کہنا تھا کہ وہاں زراعت پیشہ لوگ آباد جو گزر اوقات کے لیے مال مویشی پالتے ہیں۔ کاہان سے فراریوں کی آمد کے امکان کو رد کرتے ہوئے اللہ بخش کا کہنا تھا کہ علاقے میں بھاری تعداد میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باعث ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے ریڈ کراس اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ زخمیوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ادھر سبی سے آنے والی بعض اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران چالیس کے لگ بھگ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ | اسی بارے میں کوہلو: بجلی کے کھمبوں پر حملہ26 August, 2006 | پاکستان سیکیورٹی فورسز کا انخلاء شروع20 December, 2006 | پاکستان کیمپوں کیخلاف کارروائی کریں گے11 July, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے: ہیلی کاپٹروں کی پروازیں30 June, 2006 | پاکستان بلوچ دھماکے: فوجی سمیت سات ہلاک02 April, 2006 | پاکستان ’بلوچوں کی نسل کشی روکی جائے‘22 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||