زمین پر فوجی قبضہ کیخلاف پٹیشنز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکھر کے علاقے صالح پٹ کے لوگوں نے اپنی پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت سندھ نے ان کی آبائی زمین سے ستر ہزار ایکڑ رقبہ بلا معاوضہ فوج کو دفاعی مقاصد کے لیے الاٹ کر دیا ہے۔ صالح پٹ کے جن لگ بھگ تین سو افراد نے عدالت میں درخواستیں دائر کی ہیں غلام رسول سومرو ان پٹیشنرز میں سے ایک ہیں۔ غلام رسول سومرو نے اپنی زرعی زمین پر کپاس کی فصل کے درمیاں لگے ایک سیمینٹ کے پلر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ وہ نشانات ہیں جو فوجی اہلکاروں نے لگائے ہیں۔’انہوں اس پلر سے آگے آنے کو منع کردیا ہے۔‘ اس پلر کے پر ڈبلیو بیس نمبر (W-20) لکھا ہوا تھا۔ تحصیل صالع پٹ سندھ کا صحرائی علاقہ ہے جو ہندوستانی سرحد کے قریب ضرور ہے مگر ویران ہرگز نہیں۔صالح پٹ کے مکینوں کا کہنا تھا کہ فوج کو فائرنگ رینج کے لئے الا ٹ کی گئی زمینوں میں ان کے پانچ دیہات، قدیمی قبرستان اور مسجدیں بھی شامل ہیں۔ان کے بقول فوج کو الاٹمنٹ کے بعد انہیں قبرستانوں میں میتیں دفن کرنے سے بھی منع کیا جا رہا ہے۔ سندہ حکومت کےمحکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن کی جانب سے تیرہ اکتوبر انیس بانوے میں سکھر کے ڈپٹی کمشنر کو حکم جاری گیا تھا کہ فوج کو دفاعی مقاصد کے لیے پچاس سے زائد ایکڑ زمینں الاٹ کی جا رہی ہے۔اس سرکاری خط کی نقل صالح پٹ کے مکینوں کے پاس بھی موجود ہے۔
جب پٹیشنر غلام رسول سومرو سے پوچھا کہ حکومت نے زمینیں فوج کو انیس سو نوے میں الاٹ کی ہیں اور وہ مقدمہ اب دائر کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ کاغذوں میں نام تبدیل ہونے کا ہمیں پتہ چلا نہ فوج زمین کا قبضہ لینے آئی۔اب فوج نے جب ہمیں علاقہ چھوڑ دینے کا حکم دیا ہے تو ہمارے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہے اور ریوینیو ریکارڈ دیکھا تو وہ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ فوج کو فائرنگ رینج کے لئے زمین دیے جانے کے خلاف نہیں ہیں مگر اپنی زرعی زمین دینے کے خلاف ہیں۔ان کےمطابق ’علاقے میں صحرائی زمین فائرنگ کے لیے خالی پڑی ہے مگر فوج ہماری زمینوں پر آ گئی ہے۔‘ علاقے کے تحصیل ناظم سموں خان بھنبھرو کے بیٹے عاشق حسین کا کہنا تھا کہ ان کی کئی سوایکڑ زرعی زمین بھی فوج کو فائرنگ رینج کے لیے الاٹ کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ فوج کے قبضے کے بعد وہ اپنی ہی زمین فوج سے لیز پر لینے کےلیے مجبور ہو گئے۔’میری کپاس کے تیار فصل تھی اسے کیسے چھوڑ دوں اس لیے پنو عاقل چھاؤنی گیا اور اپنی زمین لیز پر لے لی۔‘ علاقے کے مکینوں کے پاس وہ رسیدیں موجود ہیں جو پنو عاقل چھاؤنی سے انہیں زمین کی لیز کے وقت رقم کی ادائگی کے بعد دی جاتی ہیں ۔ صالح پٹ کی لوگوں کے مقدمے کے سلسے میں پنو عاقل فوجی چھاؤنی سے رابطہ کیا گیا مگر کسی مجاز انتظامی افسر سے بات نہیں ہو سکی۔ ٹیلیفون آپریٹر نے افسران تک پیغام پہنچانے کی تسلی دینے کے بعد فون بند کر دیا۔ سکھر کے ضلعی ناظم سید ناصر حسین شاہ نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ صالح پٹ کا علاقہ انڈیا کی سرحدوں کے قریب ہے اور دفاعی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے کے چند لوگوں کی شکایات تو جائز ہیں مگر کئی لوگوں کا ان زمینوں پر قبضہ سالوں سے برقرار تھا وہ بھی شور مچا رہے ہیں۔
ضلعی ناظم کے مطابق لوگوں کی شکایات کےبعد انہوں نے فوجی حکام بالا سے رابطہ کیا ہے اور جائز شکایات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کے کمیٹی میں کون کون شریک ہے اور یہ کہ کمیٹی اپنی سفارشات کب تک ضلعی حکومت کے حوالے کرے گی۔ صالح پٹ کے مکینوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان کے علاقے میں ستر ہزار ایکڑ زمین اگر فوج کو فیلڈ فائرنگ رینج کے لیے دی گئی ہے تو فوجی حکام زمین کو زرعی مقاصد کے لیے کیونکر استعمال کر رہے ہیں؟ غلام رسول سومرو، عاشق حسین ، انور مہر او دیگر کا کہنا تھا کہ ان کےساتھ پہلی زیادتی تو سندھ حکومت کے محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن نے کی جبکہ دوسری زیادتی محکمہ آبپاشی نے فوجیوں کے کہنے پر فائرنگ رینج کی زمین میں زرعی آبادی کا پانی فراہم کرتے ہوئے کی ہے۔ صالح پٹ کے مکینوں کا کہنا تھا کہ تین سو لوگوں کی پٹیشن میں ضلعی عدالت نے مزید تاخیر کی تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کریں گے ۔یاد رہے کہ ان لوگوں کی پٹیشنز کی مقامی عدالتوں میں سماعت گزشتہ دو سال سے ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کی جانب سے انہیں علاقہ اور زمین چھوڑنے کے لئے دھمکیاں دی جا رہی ہیں مگر ان کے بقول وہ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ |
اسی بارے میں ’فوج ہماری زمین پر قبضہ کر رہی ہے‘15 April, 2007 | پاکستان ’گوادر پورٹ پر نوجوانوں کا قبضہ‘19 March, 2007 | پاکستان مسلح افواج پر زمین پر قبضے کا الزام15 April, 2006 | پاکستان ’فوجیوں نے زبردستی قبضہ کیا‘18 December, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||