باجوڑگولہ باری میں تین ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ میں مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے باوجود جمعہ کی شب تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے نتیجے میں دو خواتین اور ایک اہلکار سمیت تین افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔ باجوڑ کے اسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ محمد جمیل نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ جمعہ کی رات بارہ بجے مقامی طالبان نے صدر مقام خار میں واقع اسکاؤٹس کے قلعے اور سول کالونی پر راکٹ لانچروں اور مارٹرگولوں سے حملہ کردیا جس کے جواب میں سکیورٹی فوسز نے بھی کارروائی کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑائی کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار اور دو خواتین ہلاک جبکہ تین اہلکاروں اور چار عام شہریوں سمیت سات افراد زخمی ہوگئے۔انہوں نے لڑائی کے دوران مقامی طالبان کو پہنچنے والے نقصانات سے لاعلمی کا اظہار کردیا۔ مسٹر جمیل کےمطابق تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں دونوں طرف سے راکٹ لا نچروں اور مارٹر گولوں کا استعمال کیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایک گولہ شنڈئی موڑ کے گاؤں میں واقع ایک گھر پر لگا جس میں دو خواتین جان بحق اور دو افراد زخمی ہوگئے جبکہ فجاء نامی گاؤں میں بھی ایک گھر راکٹ حملے کا نشانہ بناہے جس میں دو افراد زخمی ہوگئے ۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ یہ دونوں گھرمقامی طالبان یا سکیورٹی فورسز کے حملے کا نشانہ بنے ہیں۔ محمد جمیل نے الزام لگایا کہ مقامی طالبان نے حملہ کرکے حکومت کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے بقول سکیورٹی فورسز نے صدر مقام خار سے تقریباً اٹھارہ کلومیٹر دور ڈمہ ڈولہ کے علاقے کا محاصرہ کرلیا ہے تاکہ وہاں پر اجتماعی ذمہ داری کے تحت گرفتاریاں عمل میں لائی جاسکیں۔ باجوڑ کے ایک صحافی مسعود خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان جاری رہنے والی لڑائی نے مقامی آبادی کو اپنے زد میں لیا اور عام لوگوں نے خوف کی وجہ سے رات جاگ کر گزاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑائی کے دوران بھاری اسلحے کی مسلسل آوازیں آتی رہیں۔ ہر ایک کو یہ خوف تھا کہ کہیں انکا گھر راکٹ لانچر یا مارٹر گولے کا نشانہ نہ بنے۔ ’لڑائی کے دوران لوگوں کو اتنی مہلت بھی نہیں مل پا رہی تھی کہ گھروں سے نکل کر کہیں اور جاکر پناہ لیں۔، مسعود خان کے مطابق اب بھی علاقے میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے اور لوگ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ باجوڑ میں دو ہفتے قبل قبائلی عمائدین اور مقامی دینی علماء پر مشتمل پچاس رکنی امن کمیٹی نے امن معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے فریقین کو عارضی جنگ بندی کرانے پر راضی کر لیا تھا تاہم اسکے باوجود تشدد کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ |
اسی بارے میں باجوڑ، سوات حملے سرکاری افسر زخمی05 September, 2007 | پاکستان باجوڑ: چار سکیورٹی اہلکار ہلاک01 September, 2007 | پاکستان باجوڑ: امن معاہدہ، طالبان کو مہلت21 August, 2007 | پاکستان باجوڑ میں لیویز کی چوکی پر حملہ08 September, 2007 | پاکستان 36 خودکش حملے، 315 سے زائدہلاک04 September, 2007 | پاکستان باجوڑ سے سرکاری اہلکار اغواء09 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||