BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 September, 2007, 12:01 GMT 17:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ سے سرکاری اہلکار اغواء

 باجوڑ فائل فوٹو
اتوار کو جرگے میں چار قبیلوں کے مشران کے علاوہ مقامی جنگجوؤں نے بھی شرکت کی
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے ایک سرکاری چیک پوسٹ پر حملہ کرکے دو اہلکاروں کو اغواء کرلیا ہے۔

دوسری طرف باجوڑ سے ملحقہ قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں صافی قبائل اور مبینہ طالبان کے مابین ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت مقامی جنگجوؤں نے علاقے میں سرکاری املاک اور اہلکاروں کو نقصان نہ پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

باجوڑ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد جمیل نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شام نواگئی تحصیل کے علاقے چارمنگ میں نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے خاصہ دار فورس کی ایک چوکی پر راکٹ لانچروں سے حملہ کیا جس سے چوکی کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق مسلح افراد چوکی میں موجود خاصہ دار فورس کے دو اہلکاروں کو بھی بندوق کی زد پر اغواء کر کے اپنے ساتھ لےگئے۔

گزشتہ روز بھی باجوڑ کے صدر مقام خار کے علاقے انزرئی میں لیویز کی چوکی پر میزائل حملے میں صوبیدار اور ایک سپاہی زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے جب علماء اور قبائلی عمائدین پر مشتمل پچاس رکنی کمیٹی حکومت اور مبینہ مقامی طالبان کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کے بعد فریقین کو ایک عارضی صلح پر رضامند کر لینے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے مطابق مقامی انتظامیہ نے اہلکاروں کے اغواء کے بعد چودہ افراد کو علاقائی ذمہ داری کے تحت حراست میں لیا ہے۔

ادھر قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں صافی قبائل اور مبینہ مقامی طالبان کے مابین ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت عسکریت پسندوں نے علاقے میں قیام امن کی خاطر سرکاری املاک اور اہلکاروں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کردی ہے۔

طالبان کو بے جا تنگ کیا گیا تو
 جرگے نے عسکریت پسندوں کو ُباور کرایا کہ حکومت کی طرف سے طالبان کو بے جا تنگ کیے جانے یا ان کے خلاف کارروائی کی صورت میں صافی قبائل انتظامیہ کا ساتھ نہیں دیں گے
جرگہ

اس سلسلے میں اتوار کو تحصیل لکھڑو کے علاقے میں ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں صافی قوم کے چار قبیلوں کے مشران کے علاوہ مقامی جنگجوؤں نے بھی شرکت کی۔ جرگہ میں شامل ایک قبائلی ملک سید احمد صافی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی عسکریت پسندوں نے جرگہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آئندہ علاقے میں امن کی خاطر سرکاری املاک اور اہلکاروں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔

ان کے مطابق جرگے نے عسکریت پسندوں کو ُباور کرایا کہ حکومت کی طرف سے طالبان کو بے جا تنگ کیے جانے یا ان کے خلاف کارروائی کی صورت میں صافی قبائل انتظامیہ کا ساتھ نہیں دیں گے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل مہمند ایجنسی میں خود کو طالبان کہنے والے ایک مسلح گروہ نے مہمند سکوؤُٹس کے دس اہلکاروں کو اغواء کیا تھا جس کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ بعد ازاں ایک قبائلی جرگے کی کوششوں سے سکوؤٹس اہلکاروں کو آزاد کرایا گیا۔

مولانا فقیر’مشرف کی پالیسی‘
طالبان خود کش حملے کرنے پر مجبور: مولانا فقیر
طالبان(فائل فوٹو)وزیرستان میں امن
طالبان کا امن معاہدہ جاری رکھنے کا فیصلہ
جرگہ(فائل فوٹو)’دہشتگردی‘ کامقابلہ
پاکستانی قبائلی عمائدین امن کانفرنس کرینگے
باجوڑ (فائل فوٹو)جاسوسوں کے بعد
باجوڑ دو اہلکاروں کو گلے کاٹ کر ہلاک کیا گیا
جوہری توانائیپاکستان سے خدشات
پاکستان سے ایٹمی پھیلاؤ کا خطرہ: امریکی ماہرین
صوبہ سرحد اسمبلیصوبائی خودمختاری
صوبہ کی سرحد سترہ آئینی ترمیمی تجاویز
پشاور دھماکہ (فائل فوٹو)تشدد کے دو سال
سرحد: دھماکوں، خودکش حملوں میں 385 ہلاک
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد