BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 August, 2007, 10:54 GMT 15:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: امن معاہدہ، طالبان کو مہلت

باجورڑ میں حملہ
باجوڑ میں حالیہ دنوں کے دوران بم دھماکوں اور چیک پوسٹوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے
باجوڑ میں بم دھماکوں اور چیک پوسٹوں پر حملوں میں اضافے کے بعد حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے مقامی طالبان نے قبائلی جرگے سے اپنا حتمی موقف پیش کرنے کے لیے پچیس اگست تک مہلت مانگی ہے۔

منگل کو باجوڑ میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدے کرانے والے ایک سو تیسں قبائلی عمائدین کا جرگہ ہوا۔ جرگے کے سربراہ ملک عبدالعزیز نے اپنے خطاب کے دوران جرگے کو بتایا کہ گزشتہ اتوار کو مقامی طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں طالبان نے امن معاہدے سے متعلق اپنا حتمی موقف پیش کرنے کے لیے پچیس اگست تک مہلت مانگی ہے۔ اس موقع پر جرگے نے ایک متفقہ فیصلے میں طالبان کو مہلت دینے کا فیصلہ کیا۔

جرگے کے سربراہ ملک عبدالعزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ اتوار کو طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں باجوڑ میں حالیہ دنوں کے دوران بم دھماکوں اور چیک پوسٹوں پر ہونے والے حملوں میں اضافے کے موضوع پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ حکومت کو شک ہے کہ ان وارداتوں میں طالبان ملوث ہو سکتے ہیں۔

طالبان کو مہلت
 طالبان نے امن معاہدے پر عملدرآمد کرنے کے لیے اپنے ساتھیوں کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد ایک حتمی موقف پیش کرنے کے لیے پچیس اگست تک مہلت مانگی ہے
ملک عبدالعزیز

ان کے بقول طالبان نے ان حملوں سے لاتعلقی ظاہر کی اور انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی امن معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں تاہم بقول ان کے طالبان نے امن معاہدے پر عملدرآمد کرنے کے لیے اپنے ساتھیوں کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد ایک حتمی موقف پیش کرنے کے لیے پچیس اگست تک مہلت مانگی ہے۔

واضح رہے کہ باجوڑ میں بم دھماکوں اور چیک پوسٹوں پر ہونے والے بم حملوں میں اضافے کے بعد حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے پر فریقین کے بیچ شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ ایک سو تیس ارکان پر مشتمل جرگے نے معاہدے کو بر قرار رکھنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

اگرچہ جرگے کے ارکان اور فریقین معاہدے کو برقرار رکھنے کا دعوی کرتے ہیں مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین کا ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی وجہ سے معاہدے کےٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور مقامی طالبان نئی شرائط کی بنیاد پر ایک نیا معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں۔

اس سے قبل بھی جرگے کے سربراہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں مقامی طالبان نے حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے کچھ شرائط پیش کی تھیں جن میں سرکاری چیک پوسٹوں پر سکیورٹی فورس کی تعداد میں کمی، قیدیوں کی رہائی اور اسلحہ لے کر چلنے کی اجازت شامل ہیں۔

کابل جرگہ: توقعات
طالبان کی عدم شرکت کے باوجود بعض حلقے پرامید
باجوڑ (فائل فوٹو)جاسوسوں کے بعد
باجوڑ دو اہلکاروں کو گلے کاٹ کر ہلاک کیا گیا
مولانا فقیر’مشرف کی پالیسی‘
طالبان خود کش حملے کرنے پر مجبور: مولانا فقیر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد