عمران: دوبارہ سندھ سے نکال دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت نے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر صوبہ میں داخلہ پر پابندی عائد کرنے کے بعد بدھ کو کراچی ائرپورٹ سے واپس اسلام آباد بھیج دیا ہے اور ان کے استقبال کے لیے آنے والے درجن بھر ارکان کو ائرپورٹ کی حدود سے گرفتار کرلیا ہے۔ عمران خان بدھ کی دوپہر پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے کراچی پہنچے تھے جبکہ سندھ کے سیکریٹری داخلہ نے ان کے صوبہ بھر میں داخلہ پر منگل کو پابندی عائد کی تھی۔ ان کو کراچی ائرپورٹ کے لاؤنج سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا اور اگلی پرواز سے واپس بھیج دیا گیا۔ یہ اس سال دوسرا موقع ہے کہ عمران خان کو کراچی سے بے دخل کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے چھبیس مئی کو سندھ حکومت نے عمران خان کے سندھ میں داخلہ پر پابندی عائد کی تھی۔ ائرپورٹ کے باہر امن و امان بحال رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جس نے عمران خان کے استقبال کے لیے آنے والے ارکان کو گرفتار کر لیا۔ وزیرِاعلٰی سندھ کے مشیرِ داخلہ وسیم اختر نے بی بی سی کو بتایا کہ انتظامیہ نے ائرپورٹ سے بارہ افراد کو نقصِ امن کے تحت گرفتار کیا ہے جبکہ کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے اس بات کی تردید کی کہ پولیس نے تحریکِ انصاف کے دفاتر پر چھاپہ مارا ہے البتہ انہوں نے کہا کہ پولیس نے ان کے چار رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے۔ مشیر داخلہ وسیم اختر نے بتایا کہ سندھ حکومت نے عمران خان کو اسلام آباد میں پابندی کا حکم نامہ بھیج دیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ یہاں آگئے۔ اگر وہ اکیلے آتے اور ریلی نکالنے کے ارادے سے نہ آتے تو ان کو نہ روکا جاتا۔ ’ان کا ارادہ یہاں آل پارٹیز ڈیموکریٹک مومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم کے ساتھ بڑی شاہراہوں پر ریلی نکالنے کا ہے جس کی ہم اجازت نہیں دیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہاں سڑکیں بن رہی ہیں اور سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ ٹریفک کی روانی کو بحال رکھا جائے۔ ٹریفک جام ہونے کی ایک بڑی وجہ ریلیاں بھی ہوتی ہیں اس لیے ہم ان کو روک رہے ہیں۔ دفعہ 144 ایک قانونی شق ہے جس کے تحت پابندی لگائی گئی ہے اور انہیں اس کی پابندی کرنی چاہیے۔‘ سخت سیکورٹی انتظامات کے باعث ائرپورٹ کی طرف جانے والے افراد کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور کئی مسافروں کی سیکیورٹی اہلکاروں سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔ شاہراہِ فیصل سے ائرپورٹ جانے والے راستوں پر اہلکار ہر گاڑی کو روک کر جہاز کے ٹکٹ طلب کر رہے تھے اور صرف ان لوگوں کو جانے کی اجازت تھی جن کے پاس جہاز کے ٹکٹ موجود تھے۔ سخت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔ ٹریفک پولیس نے مسافروں سے مقامی ریڈیو چینلز کے ذریعے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے گھروں سے چار گھنٹے قبل ائرپورٹ کے لیے نکلیں تاکہ وقت پر پہنچ سکیں۔ اعلان میں کہا گیا تھا کہ چیکنگ کی وجہ سے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں ہیں جس کی وجہ سے انہیں اضافی انتظار کرنا پڑے گا۔ | اسی بارے میں بلوچستان، سرحد و سندھ میں یومِ سیاہ11 September, 2007 | پاکستان عمران: نااہلی کا ریفرنس مسترد05 September, 2007 | پاکستان ’ڈیل ملکی نہیں ذاتی مفاد میں ہے‘31 August, 2007 | پاکستان ’فوج اقتدار سے علیحدہ ہو جائے‘14 August, 2007 | پاکستان عمران کی سندھ آمد پر پابندی ختم06 June, 2007 | پاکستان ’الطاف حسین کے خلاف شواہد ہیں‘03 June, 2007 | پاکستان کراچی کی دیواریں، عمران مخالف نعرے28 May, 2007 | پاکستان ہم پکا ہاتھ ڈالیں گے: عمران خان28 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||