BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 September, 2007, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توہین عدالت کی آئینی درخواست

خواجہ محمد آصف
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف بلکل بھی ملک سے باہر نہیں جانا چاہتے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکنِ قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف نے آئین کے آرٹیکل دو سو چار کے تحت سپریم کورٹ میں پیر کو گیارہ بجے کے قریب ایک درخواست دائر کی جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وہ حکومت کو میاں نواز شریف کو ملک بدر کرنے سے روکے۔

عدالتِ عالیہ سے درخواست میں استدعا کی گئی کہ وہ نواز شریف اور شہباز شریف کی واپسی سے متعلق اپنے تئیس اگست دو ہزار سات کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

خواجہ محمد آصف نے بی بی سی کو بتایا کہ سینئر وکیل فخر الدین جی ابراہیم نے ان کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست درج کی۔ جس وقت درخواست دائر کی گئی اس وقت تک نواز شریف کو سعودی عرب ملک بدر نہیں کیا گیا تھا۔

درخواست کے ساتھ سپریم کورٹ کے تئیس جولائی کے فیصلے کی ایک نقل بھی لگائی گئی ہے جس میں عدالت نے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اُن کے ملک میں داخلے اور یہاں رہنے کے حق کو آئین کے آرٹیکل 15 کے تحت اُن کا حق قرار دیتے ہوئے وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی تھی کہ ’ کسی طور بھی اُن کی ملک واپسی / داخلے کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے، دُشواری پیدا نہ کی جائے اور روڑے نہ اٹکائے جائیں‘۔

درخواست گزار نے سپریم کورٹ کو نواز شریف کو حکومت کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے حوالے سے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مطلع کیا تھا کہ اُن (نوازشریف) کو ایک دوسرے ملک بھجوایا جا رہا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ نواز شریف اپنے خلاف کسی بھی کیس کا ملک میں رہ کر سامنا کرنے کو تیار ہیں اور یہ کہ وہ بلکل بھی ملک سے باہر نہیں جاناچاہتے ۔

عدالت کو مطلع کیا گیا کہ نواز شریف کو طیارے سے باہر نہیں آنے دیا جا رہا جبکہ باقی تمام مسافر باہر آچکے ہیں۔’جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں ملک بدر کیا جا رہا ہے‘۔

عدالت سے استدعا کی گئی کہ وہ حکومتِ پاکستان اور صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری اہلکاروں کو ’ہدایت کرے اور روکے‘ کہ وہ میاں نواز شریف کو پاکستان سے باہر نہ بھیجوانے دے۔

عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی کہ وہ حکومت کو ہدایت کرے کہ نواز شریف کو اس عدالت میں پیش کیا جائے تا کہ اُن کے ساتھ ملکی قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔

عدالت سے یہ درخواست بھی کی گئی کہ وہ نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے اپنے فیصلے پر اُس کی روح کے مطابق عملدرآمد کرے۔

فرزانہ ملکنواز شریف: فیصلہ
امریکہ میں مقیم پاکستانی کیا کہتے ہیں
 مسلم لیگی خوشیاں مسلم لیگی جشن
عدالتی فیصلہ: خوشیاں، جشن، مٹھائیاں
ایک پوسٹرپہلے شہبازشریف
سپریم کورٹ کا فیصلہ، جاوید سومرو کا تجزیہ
اخبارات کا ردعمل
شریف برادران ممکنہ قید سے نہ ڈریں: نوائے وقت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد