مشتبہ برطانوی القاعدہ رکن رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم فیڈرل ریویو بورڈ کے فیصلے کی روشنی میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری اورنگزیب احمد کو رہا کر کے لندن روانہ کر دیا ہے۔ اورنگزیب احمد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بیس اگست سنہ دو ہزار چھ کو پاکستان کے صوبہ سرحد کے علاقے ہری پور سے القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد پاکستانی اور امریکی خفیہ ایجسیوں کے اہلکاروں نے اورنگزیب سے القائدہ سے تعلق کے بارے میں پوچھ گچھ کی تھی اور اس دوران ان پر مبینہ طور پر تشدد بھی کیا گیا تھا۔ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار جب اُن کا القاعدہ کے ساتھ تعلق ثابت کرنے اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کو ثابت کرنے میں ناکام رہے تو انہیں سکیورٹی ایکٹ آف پاکستان کے تحت گرفتار کر کے اڈیالہ جیل میں ڈال دیا۔ بعدازاں اورنگزیب کو حبس بےجا میں رکھنے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس فقیر محمد کھوکھر کی سربراہی میں قائم فیڈرل ریویو بورڈ یا وفاقی نظرثانی بورڈ نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ | اسی بارے میں برطانیہ سے قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ24 August, 2007 | پاکستان برطانوی قیدی تک رسائی سے انکار02 August, 2007 | پاکستان القاعدہ پاکستان میں موجود: مشرف07 September, 2007 | پاکستان القاعدہ ملوث ہو سکتی ہے: شیرپاؤ30 April, 2007 | پاکستان القاعدہ سے تعلق، 3 غیر ملکی رہا29 March, 2007 | پاکستان طالبان اور القاعدہ کا ایک نکاتی ایجنڈا09 March, 2007 | پاکستان ’طالبان، القاعدہ ملوث ہوسکتے ہیں‘27 January, 2007 | پاکستان پاکستان، القاعدہ، امریکہ اورمشکلات13 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||