BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 August, 2007, 17:19 GMT 22:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی قیدی تک رسائی سے انکار

رنگ زیب احمد
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ رنگ زیب احمد کی خیریت کے بارے میں فکر مند ہیں
پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید برطانوی شہری تک رسائی کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

برطانیہ کے شہر مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے رنگ زیب احمد کو اپریل 2006 سے بغیر کسی مقدمے کے حراست میں رکھا گیا ہے۔

انہیں سکیورٹی آف پاکستان ایکٹ کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی ایسے مشتبہ شخص کو جو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ہم اڈیالہ جیل میں رنگ زیب سے ملاقات اور ان کی قومیت کنفرم کرنے کے سلسلے میں ہر ممکن کوشش کر چکے ہیں‘۔

تاہم ہائی کمیشن کے ان الزامات کے جواب میں پاکستانی حکام کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

سرکاری طور پر ان کی حراست کے بعد سے رنگ زیب کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے ۔

ان کے بھائی محمد پرویز نے حال ہی میں بی بی سی کے نام اپنے ایک خط میں لکھا ہے کہ ’میں اپنے بھائی کی صحت اور جس طرح انہیں اڈیالہ جیل میں رکھا جا رہا ہے، اس بارے میں کافی فکر مند ہوں‘۔

خط میں کہا گیا ہے کہ’ رنگ زیب احمد کو آئی ایس آئی اور امریکی سی آئی اے کے اہلکار پاکسان میں کسی نامعلوم مقام پر لے گئے تھے‘۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’انہیں وہاں آٹھ ماہ رکھا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا‘۔

محمد پرویز کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ان کے بھائی کو پاکستانی پولیس کے حوالے کر دیا گیا جس نے انہیں اڈیالہ جیل بھیج دیا جہاں وہ قید ہیں۔

حالیہ برسوں میں کئی پاکستانی ’لاپتہ‘ ہوئے ہیں

رنگ زیب کو پہلی مرتبہ جون 2006 میں ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر استغاثہ کی اس اپیل پر کہ انہیں فرد جرم عائد کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے، رنگ زیب کا دو ماہ کا ریمانڈ دے دیا گیا۔ اس موقع پر جج نے رنگ زیب کو
قانونی مدد تک رسائی کی اجازت بھی دی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکام رنگ زیب کو قید میں رکھنے کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان میں ہیومن رائٹس واچ کے دفتر کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ ہم سکیورٹی آف پاکستان کے ایکٹ کے غلط استعمال کے بارے میں فکر مند ہیں، جس کے تحت مشتبہ افراد کو غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں رکھا جاتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہیومن رائٹس واچ کا یہ ماننا ہے کہ یہ قانون انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے‘۔

حکومتی ردِ عمل
ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ جانبدارانہ ہے
ایمنسٹیایمنسٹی رپورٹ
پاکستان میں گمشدگیوں اور ہلاکتوں پر تشویش
حراست: انوکھاجواز
’حراست وزیراعظم کے ایما پر بتائی گئی‘
جیل’غیر قانونی حراست‘
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید برطانوی شہری
اسی بارے میں
’بش مشرف پر دباؤ ڈالیں‘
25 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد