BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 June, 2007, 02:06 GMT 07:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی قید میں ایک برطانوی

غیر قانونی حراست کے خلاف مظاہرہ
پاکستان میں لوگوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خود کو برطانوی شہری کہنے والے ایک شخص کو پاکستان میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھ کراذیتیں دی گئی ہیں۔

انسانی حقوق کے ایک گروپ کے مطابق رنگ زیب احمد نام کے ایک شخص کا کہنا ہے کہ برطانوی اور امریکی سکیورٹی ایجنٹوں نے ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔

برطانوی ہائی کمیشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسٹر احمد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔ تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ابھی یہ واضح کرنا ہے کہ آیا وہ شخص برطانوی شہری ہے یا اس کے پاس دوہری شہریت ہے۔

دوہری شہریت
 اگر وہ برطانوی شہری ہیں تو ہم ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی کوشش کریں گے لیکن اگر وہ دوہری شہریت کے حامل ہیں تو ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں
برطانوی سفارتخانہ

ہائی کمیشن میں عوامی امور کے سربراہ ایڈن لڈل نے کہا کہ ’اگر وہ برطانوی شہری ہیں تو ہم ہر ممکن مدد فراہم کرانے کی کوشش کریں گے لیکن اگر وہ دوہری شہریت کے حامل ہیں تو ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں‘۔

’ڈیفنس آف ہیومن رائٹس‘ کےچیف رابطہ کار خالد خواجہ کا کہنا ہے کہ مسٹر احمد نے بتایا ہے کہ وہ صرف برطانوی شہری ہیں اور مانچسٹر کے رہنے والے ہیں ان کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہے جس پر پاکستانی ویزا لگا ہوا ہے۔

بی بی سی نے ان کے پاسپورٹ کی نقل دیکھی ہے جس کا نمبر 103633059 ہے اور جو 2002 میں جاری کیا گیا ہے ۔پاسپورٹ میں ان کی پیدائش 1975 دی گئی ہے۔

خالد خواجہ کے مطابق مسٹر احمد دس ماہ قبل قید ہونے کے بعد سے ہی مدد کی اپیل کر رہے ہیں اور انہیں وکیل تک مہیا نہیں کرایا گیا۔

خالد خواجہ خود بھی کئی دفعہ حراست میں رہ چکے ہیں

خالد خواجہ نے بتایا کہ رنگ زیب احمد کو سادہ کپڑوں میں ایک شخص نے شمالی پاکستان میں ایک بس میں سفر کے دوران گرفتار کیا تھا۔جس کے بعد انہیں اسلام آباد لےجا کر چھ دن تک پوچھ گچھ کی گئی۔

رنگ زیب احمد کے مطابق اس دوران انہیں اذیتیں دی گئیں اور سونے نہیں دیا گیا اس کے علاوہ برطانوی اور امریکی سکیورٹی ایجنٹوں نے بھی ان سے پوچھ گچھ کی۔

خالد خواجہ نے بتایا کہ برطانیہ میں مسٹر احمد کے گھر والے ان کی رہائی کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں ۔

اسی بارے میں
یونان میں قید پاکستانی شہری
09 November, 2006 | پاکستان
مرزا طاہر کیس: کب کیا ہوا؟
20 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد