پاکستانی قید میں ایک برطانوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خود کو برطانوی شہری کہنے والے ایک شخص کو پاکستان میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھ کراذیتیں دی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے ایک گروپ کے مطابق رنگ زیب احمد نام کے ایک شخص کا کہنا ہے کہ برطانوی اور امریکی سکیورٹی ایجنٹوں نے ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسٹر احمد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔ تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ابھی یہ واضح کرنا ہے کہ آیا وہ شخص برطانوی شہری ہے یا اس کے پاس دوہری شہریت ہے۔
ہائی کمیشن میں عوامی امور کے سربراہ ایڈن لڈل نے کہا کہ ’اگر وہ برطانوی شہری ہیں تو ہم ہر ممکن مدد فراہم کرانے کی کوشش کریں گے لیکن اگر وہ دوہری شہریت کے حامل ہیں تو ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں‘۔ ’ڈیفنس آف ہیومن رائٹس‘ کےچیف رابطہ کار خالد خواجہ کا کہنا ہے کہ مسٹر احمد نے بتایا ہے کہ وہ صرف برطانوی شہری ہیں اور مانچسٹر کے رہنے والے ہیں ان کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہے جس پر پاکستانی ویزا لگا ہوا ہے۔ بی بی سی نے ان کے پاسپورٹ کی نقل دیکھی ہے جس کا نمبر 103633059 ہے اور جو 2002 میں جاری کیا گیا ہے ۔پاسپورٹ میں ان کی پیدائش 1975 دی گئی ہے۔ خالد خواجہ کے مطابق مسٹر احمد دس ماہ قبل قید ہونے کے بعد سے ہی مدد کی اپیل کر رہے ہیں اور انہیں وکیل تک مہیا نہیں کرایا گیا۔
خالد خواجہ نے بتایا کہ رنگ زیب احمد کو سادہ کپڑوں میں ایک شخص نے شمالی پاکستان میں ایک بس میں سفر کے دوران گرفتار کیا تھا۔جس کے بعد انہیں اسلام آباد لےجا کر چھ دن تک پوچھ گچھ کی گئی۔ رنگ زیب احمد کے مطابق اس دوران انہیں اذیتیں دی گئیں اور سونے نہیں دیا گیا اس کے علاوہ برطانوی اور امریکی سکیورٹی ایجنٹوں نے بھی ان سے پوچھ گچھ کی۔ خالد خواجہ نے بتایا کہ برطانیہ میں مسٹر احمد کے گھر والے ان کی رہائی کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں ۔ | اسی بارے میں برطانوی سفارتی عملے کی سکیورٹی میں اضافہ26 June, 2007 | پاکستان دہشتگردی کیخلاف اشتراک کا عزم 19 November, 2006 | پاکستان یونان میں قید پاکستانی شہری09 November, 2006 | پاکستان مرزا طاہرکی رہائی، برطانیہ روانگی17 November, 2006 | پاکستان مرزا طاہر کیس: کب کیا ہوا؟20 October, 2006 | پاکستان پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل16 November, 2006 | پاکستان مرزا طاہر حسین کی بلیئر سے اپیل06 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||