یونان میں قید پاکستانی شہری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونان میں حقوق انسانی کا دفاع کرنے والے وکیل ایک پاکستانی تارک وطن کی قید سے رہائی کرانے کی کوشش کررہے ہیں جن کی وجہ سے اسلام آباد، لندن اور ایتھنز میں حکومتیں ناخوش ہوئیں۔ جاوید اسلم اٹھائیس پاکستانیوں کی برطانوی انٹیلیجنس کے ذریعے یونان میں غیرقانونی حراست میں پوچھ گچھ کے سلسلے میں پکڑے گئے ہیں۔ جاوید اسلم کی حوالگی کے لیے پاکستان کی حکومت بھی کوشش کررہی ہے۔ ان پر لوگوں کی غیرقانونی طور پر اسمگلنگ کے الزامات ہیں۔ لیکن جاوید اسلم کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ انہیں پھنسایا گیا ہے اور پاکستان کی حکومت بدلے کے جذبات سے کام کررہی ہے۔ جاوید اسلم ابھی ایتھنز کی ایک جیل میں ہیں جہاں وہ پاکستانی حکومت کے خلاف لڑرہے ہیں تاکہ انہیں یونان سے پاکستان کے حوالے نہ کیا جاسکے۔ انہیں اسی ماہ یونان میں انٹرپول نے پاکستانی حکومت کی درخواست پر کہ وہ انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں، گرفتار کیا۔ انہوں نے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ جاوید اسلم یونان میں بسنے والے لگ بھگ پچاس ہزار پاکستانیوں کی نمائندگی کرنے والی ایک تنظیم کے سربراہ ہیں۔ جاوید اسلم نے الزام لگایا تھا کہ ان اٹھائیس پاکستانیوں کو یونان کی سکیورٹی ایجنسیز نے برطانوی انٹیلیجنس کے ساتھ مل کر اغوا کرلیا اور ان کے ساتھ زیادتیاں کی۔ برطانوی اور یونانی حکومتوں کی جانب سے تمام انکار کے باوجود یونان کی ایک عدالت نے ان اٹھائیس افراد کے موقف کو صحیح بتایا جس سے جاوید اسلم کی مہم کو تقویت ملی۔ اس معاملے کے بعد پبلِک آرڈر سے متعلق یونان کے ایک وزیر کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑا اور ایتھنز سے برطانوی انٹیلیجنس کے سربراہ کو واپس برطانیہ بھیج دیا گیا۔ جاوید اسلم کے وکیل ان کے لیے یونان کی جیل سے رہائی کے لی کام کررہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ انہیں پاکستان کے حوالے نہ کیا جائے۔ وہ جاوید اسلم کے لی سیاسی پناہ کی بھی کوششیں کررہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’ایک بمبار پاکستان گیا تھا‘14 July, 2005 | پاکستان برطانیہ کو آگاہ کیا تھا: شیرپاؤ13 July, 2005 | پاکستان سات پاکستانیوں کے اغوا کا مقدمہ13 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||