دہشتگردی کیخلاف اشتراک کا عزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ اور پاکستان نے اس عزم کااظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مستقبل قریب میں مزید اشتراکِ عمل سے کام لیا جائے گا۔ یہ بات برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور پاکستانی صدر مشرف کی لاہور میں ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی۔ اعلامیہ میں برطانیہ کی طرف سے آئندہ تین برس میں پاکستان کے لیے ترقیاتی امداد دوگنی سے زیادہ کرکے چارسو اسی ملین پاؤنڈ کردینے کا عندیہ دیا ہے۔ اس میں سے بیشتر مالی وسائل مذہبی مدارس میں روشن خیال اعتدال پسندی کی فضا قائم کرنے کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔ اسی طرح مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ اور انٹیلجنس ایجنسیوں کی سطح پر ایک نیا معاہدہ کار طے کرنے کی بات کی گئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ منشیات کی روک تھام غیر قانونی ترک وطن اور منظم بین الاقوامی جرائم کے خلاف باہمی تعاون سے کام لیا جائے گا۔ انسداد منشیات مہم کے ایک حصے کے طور پر برطانیہ ایم آئی ساخت کے دو ہیلی کاپٹر دینے کااعلان بھی کیا۔
اس موقع پر برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم سب کو ایک ہی خطرے کا سامنا ہے اور خطرہ ہے انتہا پسندوں اور ان لوگوں کی طرف سے جو معاشرے کو بند گلی کی طرف لے جاتے ہیں یا اس کی طالبانائزیشن چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ متاثرہ ممالک میں انتخابات کے ذریعے عوامی منشاء اور حمایت حاصل کی جائے۔ ایسی اقدار اورسوچ کو آگےلایا جائے جو مثبت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کو ایک عالمگیر جدوجہد کے طور پر دیکھا جائے جس کے تمام پہلوؤں سے نمٹنا ضروری ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے دہشت گردی کے بعض منصوبوں کو وقت سے پہلے ناکام کرنے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ صدر مشرف نے ایک سوال کے جواب میں خود سے منسوب اس بیان کی سختی سے تردید کی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح ممکن نہیں انہوں نے کہاکہ میں کبھی اس بات کاقائل نہیں رہا کہ دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے جائیں۔ تاہم انہوں نے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وسیع البنیاد حکمت عملی اخیتار کی جائے جس میں سیاسی اور تعمیراتی کارروائیاں بھی شامل ہوں۔ امریکہ اور برطانیہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث پاکستان کی بہت اہمیت ہے۔ پاکستان اگرچہ صدر مشرف کی قیادت میں ’نائن الیون‘ کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کا حصہ بنا ہوا ہے لیکن برطانوی فوجی حکام اور مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کے لیے پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں ٹونی بلیئر پاکستان پہنچ گئے18 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||