القاعدہ ملوث ہو سکتی ہے: شیرپاؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے عندیہ دیا ہے کہ ان پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ملوث ہوسکتے ہیں۔ پیر کو یہاں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’القاعدہ کے اصل لوگ عرب ہیں لیکن ان کے رابطے پاکستان میں بھی ہیں، افغانوں سے ازبکوں اور دوسرے لوگوں سے بھی۔ تو ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ القاعدہ کے یہاں رابطے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے یہاں ہونے والی دہشتگردی سے اسکا تعلق ہوسکتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ کارروائیاں دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ردعمل ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اس جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کررہا ہے اور گیارہ ستمبر کے بعد ہم جس مرحلے میں ہیں وہ آسان نہیں ہے۔‘ انہوں نے افغانستان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ہمارے پڑوسی ملک میں جو کچھ ہورہا ہے اور 11/9 کے بعد القاعدہ کے عناصر جس طرح پاکستان میں آئے تو یہ قدرتی بات ہے کہ جب آپ کسی پر دباؤ بڑھاتے ہیں تو وہ جوابی کارروائی کرتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کے جلسے پر حملہ کرنے والا خودکش بمبار امکانی طور پر نوعمر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وقوعہ سے دو مشتبہ سر ملے ہیں جن میں ایک کا چہرہ مکمل ہے جبکہ دوسرے کا چہرہ مسخ ہوچکا ہے۔ شیرپاؤ نے کہا کہ حکومت ان دونوں مشتبہ افراد کی تصاویر اخبارات میں دے گی اور انعام کا بھی اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان پر ہونے والے حملے میں جو طریقہ کار استعمال کیا گیا وہ پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ میں ہونے والے دھماکوں سے ملتا جلتا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پچھلے واقعات میں خودکش بمباروں نے اپنی بیلٹ میں گرنیڈ استعمال کئے تھے لیکن حالیہ واقعے میں انہوں نے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادہ استعمال کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ’یہ ایک نیشنل ایشوء ہے اور اس پر ہم سب کو اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردی کا مقابلہ کرنا چاہئے۔‘ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ خفیہ اداروں نے ان کے جلسے پر حملے کے امکان کے حوالے سے کوئی رپورٹس دی تھیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ان کی بھائی کی برسی کے موقع پر چارسدہ میں 8 فروری کو ہونے والے جلسے کے حوالے سے ایسی رپورٹس ضرور سامنے آئی تھیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف اقدامات جاری رکھے گی اور دہشتگردوں کو دوبارہ منظم نہیں ہونے دے گی۔ شیرپاؤ نے اس بات کی تردید کی کہ ان پر ہونے والے حملے کے پیچھے عبداللہ محسود کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’عبداللہ محسود کا اس سے کوئی تعلق نہیں، اگر میں یہ کہتا کہ بیت اللہ محسود کا ہاتھ ہے تو وہ الگ بات ہوتی لیکن عبداللہ محسود اس طرح کی کارروائیوں میں کافی عرصے سے سرگرم نہیں ہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ افغان جرگہ کمیشن میں شرکت کے لئے افغانستان جارہے ہیں۔ | اسی بارے میں شیرپاؤ پر حملہ: مرنے والے 28 ہو گئے29 April, 2007 | پاکستان ’حملہ آور شیرپاؤ کی جانب بڑھ رہا تھا‘28 April, 2007 | پاکستان چار ماہ میں آٹھ خودکش حملے28 April, 2007 | پاکستان تفتیش کا دائرہ پھیل رہا ہے: پولیس29 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||