برطانیہ سے قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور برطانیہ نے ایک دوسرے کے سزا یافتہ قیدیوں کو ان کے اپنے ملک میں سزا کاٹنے کے لیے تبادلے کی اجازت دینے سے متعلق ایک معاہدے پر آج دستخط کیے ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ قیدیوں کی حوالگی یعنی ایکٹراڈیشن کا معاہدہ نہیں ہے۔ حوالگی کے معاہدے پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ابھی جاری ہیں۔ اسلام آباد میں وزارت داخلہ میں جمعہ کو اس معاہدے پر پاکستان کی جانب سے وفاقی سیکٹری داخلہ سید کمال شاہ جبکہ برطانیہ کی طرف سے پاکستان میں ان کے سفیر رابرٹ برنکلے نے دستخط کیئے۔ حکام کے مطابق گزشتہ برس دسمبر تک پاکستان میں سات برطانوی شہری جیل میں تھے جبکہ انگلینڈ اور ویلز میں اس سال فروری تک پاکستانی قیدیوں کی تعداد چار سو چوالیس بتائی جاتی ہے۔ برطانوی جیلوں میں کسی ایک ملک سے تعلق رکھنے والے غیرملکی قیدیوں کے اعتبار سے یہ پاکستان کا چوتھا نمبر ہے۔ قیدیوں کے اپنے ملک میں سزا پوری کرنے سے متعلق معاہدے پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت دو برس قبل شروع ہوئی تھی۔ اس معاہدے کی رو سے برطانیہ میں قید پاکستانی قیدی اپنی باقی ماندہ سزا پاکستان میں پوری کر سکیں گے۔ اسی طرح برطانوی قیدی بھی واپس جا سکیں گے۔ تاہم اس واپسی کے لیے قیدی کا راضی ہونا ضروری ہے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے برطانوی سفیر رابرٹ برنکلے کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے قیدیوں کے لیے ایک مفید سمجھوتہ ہے۔ ’اس سے قیدیوں کو زبان اور دیگر مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا۔‘ | اسی بارے میں ’ملزموں کے تبادلہ کا معاہدہ تیار‘08 August, 2005 | پاکستان ’مالکانِ مارگلہ ٹاورز کو حوالےکرو‘30 October, 2006 | پاکستان راشد رؤف: حوالگی روکنے کے لیے رٹ05 April, 2007 | پاکستان ’چین نےحوالگی کا مطالبہ نہیں کیا‘26 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||