BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 September, 2007, 15:44 GMT 20:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شریف برادران: عدالت کیلیے تیار‘

راجہ ظفر الحق اور قاضی حسین احمد
حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کا کہنا ہے کہ شریف بردران کی پاکستان آمد پر گرفتاری کی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا تاہم شریف برادران عدالتی کارروائی کے سامنے کے لیے تیار ہیں۔

اس کا اعلان اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک اجلاس کے بعد کیا ہے۔

مسلم لیگ نواز کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ شریف برادران کسی بھی ’قانونی طور پر قائم عدالت‘ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

مسلم لیگی رہنما نے اب تک حکومت پر ایک ہزار افراد کو شریف برادران کے استقبال سے روکنے کی خاطر حراست میں لیے جانے کا الزام لگایا ہے۔

ادھر مسلم لیگ نواز کی جانب سے جمعہ کو بعض اخبارت میں رنگین اشتہارات شائع کیے گئے ہیں جن میں عوام کو دس ستمبر کو صبح گیارہ بجے اسلام آباد ائرپورٹ آنے کے لیے کہا گیا ہے۔ نواز اور شہباز شریف کی تصاویر والے اس اشتہار میں دس ستمبر کو قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی فتح کا دن قرار دیا گیا ہے۔

راجہ ظفر الحق کی رہائش گاہ پر ہونے والے اس اجلاس میں اے پی ڈی ایم کی تمام سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔ یاد رہے اس اتحاد میں پیپلز پارٹی شامل نہیں۔

راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ نواز اور شہباز شریف دس ستمبر کو پاکستان ضرور آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے پی ڈی ایم کی قیادت مل کر ہوائی اڈے استقبال کے لیے جائے گی جب کہ چاروں صوبوں سے کارکن بھی آئیں گے۔

اجلاس میں قاضی حسین احمد کی آئینی درخواست میں بھی فریق بننے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو انہوں نے سپریم کورٹ میں صدر کے عہدے کی اہلیت کو چیلنج کرنے کے لیے دی ہوئی ہے۔

اے پی ڈی ایم نے چیف جسٹس یا ججوں کی ملازمت کی میعاد کم کرنے سے متعلق اخباری اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مخالفت کا اعلان کیا۔ ’اگر کسی جج کی مدت ملازمت میں ایک روز کی بھی کمی کی گئی تو اسے عدلیہ پر وار تصور کیا جائے گا‘۔

اپوزیشن اتحاد نے وکلاء کی صدر مخالف تحریک کی بھی حمایت کا فیصلہ کیا اور کہا کہ وہ ان کے ایجنڈے کو قبول کرتے ہیں۔

راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ شریف برادارن کے استقبال کے لیے آنے والی عوام کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر کے حکومت اپنے اختتام کا سامان کرے گی۔

اسی بارے میں
حکومت سے مذاکرات نہیں
22 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد