حکومت سے مذاکرات نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے، البتہ چوہدری برادران سے کسی اتفاقی ملاقات کو مذاکرات کا رنگ نہ دیا جائے اور اگر حکومت اسے مذاکرات کا رنگ دے کر غلط تاثر دینا چاہتی ہے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایم ایم اے نے (ق) لیگ سے کہا ہے کہ وہ جنرل مشرف کے باوردی صدارتی انتخابات سے دستبردار ہو جائے کیونکہ اس وقت تمام مسائل کے سیاسی حل کی راہ میں جنرل مشرف ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پچھلے دور کو ایک عبوری دور سے تعبیر کیا گیا تھا۔ اب ہمیں مکمل جمہوریت کی جانب جانا ہے۔ باوردی صدر کا انتخاب قوم اور جمہوریت کی نفی ہے۔‘ کوئٹہ میں منعقد ہونے والے متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایم ایم اے کی سپریم کونسل کے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ آمریت کے خاتمے کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور آمریت کے خلاف عوامی میدانوں، عدالت اور پارلیمنٹ میں جنگ لڑی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی محاذ پر حکومت کے آمرانہ اقدامات کو روکنے کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔ ایم ایم اے نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی طے کرے گی۔ مولانہ فضل الرحمان نے کہا کہ آنے والے عام انتخابات کے حوالے سے ایم ایم اے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا عام انتخابات میں عمل دخل کا راستہ روکا جائے گا اور سیاست میں فوج کی مداخلت ختم کی جائے گی۔ ایم ایم اے نے اس مطالبے کو بھی دہرایا ہے کہ قومی اتفاق رائے سے عبوری حکومت قائم کی جائے اور صاف و شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ ایم ایم اے عام انتخابات میں حصہ لے گی۔ اس سلسلے میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے ساتھ حکمت عملی طے کرے گی جبکہ تین ستمبر کو ایم ایم اے کا سربراہی اجلاس ہوگا۔ سپریم کونسل کے اجلاس میں تمام سیاسی امور پر اتفاق رائے کیاگیا ہے۔ اجلاس میں پی پی پی سے کہا گیا کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں کہ وہ آمریت کے ساتھ نہیں ہے۔ ایم ایم اے نے پارلیمانی بورڈ کا اعلان بھی کردیا ہے۔ صوبائی اور ضلعی پارلیمانی بورڈ نے دستور کے مطابق کام شروع کر دیا ہے۔ ایم ایم اے کی قیادت نے تمام اضلاع کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ دس ستمبر تک اپنی اپنی تجاویز صوبائی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں پیش کریں۔ | اسی بارے میں فوج تعیناتی،مجلس میں اختلافات14 July, 2007 | پاکستان ’قاضی قومی اسمبلی سے مستعفی‘14 July, 2007 | پاکستان ’عوام جمہوریت کے لیے باہر آئیں‘26 July, 2007 | پاکستان مشرف صدر نہیں رہ سکتے: مجلس30 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||