BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 August, 2007, 05:18 GMT 10:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اب وارنٹ جاری نہیں ہو سکتے‘

نواز شریف
سن دو ہزار ایک میں ان مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی تھی
پاکستان کی ایک احتساب عدالت نے احتساب کے حکومتی ادارے ’نیب‘ کی استدعا کو رد کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر ارکان کے بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتاری کےسمن (وارنٹ) جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سنیچر کو راولپنڈی کی احتساب عدالت (نمبر چار) کے جج چودھری خالد محمود نے حکومتی استدعا نامنظور کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ سامنے آ چکا ہے اور اب ان کی وطن واپسی سے پہلے ان کے خلاف کوئی سمن (وارنٹ) جاری نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ ان مقدمات پر جو بھی کارروائی ہوگی وہ ملزمان کی وطن واپسی پر ہوگی۔


یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کو نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی آئینی درخواستوں پر فیصلے دیتے ہوئے دونوں کا یہ حق تسلیم کیا تھا کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے وطن واپس آ سکتے ہیں۔

حدیبہ پیپر ملز کا مقدمہ
 حدبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں نو افراد کو نامزد کیا گیا تھا ان میں میاں محمد شریف مرحوم، نواز شریف، شہباز شریف، میاں عباس شریف، حسین نواز، حمزہ شہباز، شمیم اختر بیوہ محمد شریف، صبیحہ عباس زوجہ میاں عباس شریف اور نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر زوجہ محمد صفدر شامل ہیں۔
ذوالفقار بھٹہ
نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار احمد بھٹہ نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے ان کی یہ درخواست منظور کر لی ہے کہ نواز شریف کے مرحوم والد میاں محمد شریف کا نام ملزمان کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ بدعنوانی کے مقدمات کے فیصلے میں اگر میاں شریف کے ذمے کوئی ادائیگی نکلی تو ان کے قانونی ورثاء سے حاصل کی جائے گی جس پر عدالت نے کہا کہ اگر ایسی کوئی بات ہوئی تو عدالت میں اس ضمن میں دوبارہ درخواست دی جائے۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت کی اگلی تاریخ سات سمتبر مقرر کی ہے۔

احتساب عدالت نے نیب کی طرف سے دو اگست کو دائر کی جانے والی درخواست پر نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف دائر تین مقدمات پر از سر نو کارروائی شروع کی تھی۔

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار میں درج کیے جانے والے یہ مقدمات حدیبیہ پیپرز ملز، اتفاق فونڈریز اور رائے ونڈ میں غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کے حوالے سے قائم کیے گئے تھے۔

احتساب عدالت نے بارہ اپریل سنہ دو ہزار ایک کو نیب کی طرف سے درخواست پر ان مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔

ذوالفقار بھٹہ کے مطابق حدبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں نو افراد کو نامزد کیا گیا تھا ان میں میاں محمد شریف مرحوم، نواز شریف، شہباز شریف، میاں عباس شریف، حسین نواز، حمزہ شہباز، شمیم اختر بیوہ محمد شریف، صبیحہ عباس زوجہ میاں عباس شریف اور نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر زوجہ محمد صفدر شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اتفاق فونڈریز کے مقدمے میں چھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں میاں محمد شریف، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، مختار حسین اور کمال قریشی شامل ہیں جبکہ رائے ونڈ میں واقع اثاثہ جات کے مقدمے میں میاں محمد شریف ان کی اہلیہ شمیم اختر اور میاں نواز شریف نامزد ملزم ہیں۔

اسی بارے میں
واپسی کی سماعت 16 اگست کو
09 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد