چیف جسٹس کی کام پر واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے چار ماہ بعد عدالتی کام کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے حکومتی وکیل سید شریف الدین پیرزادہ کے ایک پرائیوٹ مقدمے کو سننے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بحالی کے فیصلے کے بعد پیر کے روز پہلی مرتبہ سپریم کورٹ میں آئے اور عدالتی کام کا آغاز کیا۔ چیف جسٹس افتخار نے تین رکنی بینچ کی سربراہی کی اور معمول کے مقدموں کی سماعت شروع کی۔ بینچ کے دوسرے دو ممبران میں جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس غلام ربانی تھے۔ چیف جسٹس افتخار محمد نے پاکستان کے سب سے بڑے عدالتی بحران کے بعد عدالتی کام کا آغاز کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور سب معمول کی کارروائی ہے۔ سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت میں جہاں جمعے کے روز چیف جسٹس کو کام سے روکنے کے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا، وہاں ان نوجوان وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی جو چیف جسٹس کے خلاف حکومتی کارروائی کے دوران وکلاء تحریک میں پیش پیش نظر آ رہے تھے۔
عدالت نے جب کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کے خلاف ایک مقدمے میں کارروائی شروع کی تو چیف جسٹس کے مقدمے میں حکومتی وکیل راجہ ابراہیم ستی روسٹرم پر پہنچے اور اسی دوران سید شریف الدین پیرزاہ بھی روسٹرم پر پہنچ گئے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے مقدمے کی سماعت کرنے کی بجائے کہا کہ یہ مقدمہ کسی اور عدالت میں لگے گا۔ ایڈوکیٹ راجہ ابراہیم ستی نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف جسٹس کی طرف سے ان کے مقدمے کی سماعت نہ شروع کرنے کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ چیف جسٹس ان کے خلاف پیش ہونے والے مقدموں کی سماعت نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں کام کرنے والے تین رکنی بینچ کے ایک ممبر جسٹس رانا بھگوان داس نے ڈی آئی جی سلیم اللہ خان کی آئینی درخواست کو عدالت میں لگانے کا حکم جاری کیا۔ ڈی آئی جی سلیم اللہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر سندھ کے ہاری منو بھیل کے مقدمے کی تحقیات کر رہے تھے اور چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کےدوران ان کو اسلام آباد سے گرفتار کر کے سندھ لے جایا گیا تھا۔ ڈی آئی جی سلیم اللہ خان نے سندھ حکومت کی طرف سے ان کو عہدے سے ہٹانے اور بعد میں ایک مقدمے میں گرفتاری کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک رٹ پیٹشن دائر کی تھی جسے سپریم کورٹ آفس نے واپس کر دیا تھا۔ جسٹس رانا بھگوان داس نے سپریم کورٹ آفس کے حکم کے خلاف اپیل کو تسلیم کرتے ہوئے اسے عدالت میں لگانے کا حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ کا بینچ اب یہ فیصلہ کرے گا کہ کیا سلیم اللہ کی آئینی درخواست سنی جا سکتی ہے یا نہیں۔ ڈی آئی جی سلیم اللہ نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ نے منو بھیل کے مقدمے کا تحقیاتی افسر مقرر کیا تھا اور جب انہوں نے تحقیات شروع کیں تو نہ صرف ان کو ہٹا دیا گیا بلکہ جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کارروائی شروع ہو ئی تو انہیں اسلام آباد سے گرفتار کر کے سندھ لے جایا گیا۔ | اسی بارے میں پاکستان بھر کے وکلاء کا یومِ تشکر21 July, 2007 | پاکستان ’صرف فیصلہ تسلیم کرنا کافی نہیں‘21 July, 2007 | پاکستان بحالی کا فیصلہ، قابلِ احترام: صدر21 July, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کوئٹہ نہیں جائیں گے21 July, 2007 | پاکستان ’قوم اس روشنی سے فائدہ اٹھائے‘20 July, 2007 | پاکستان وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا20 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||