BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 July, 2007, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صرف فیصلہ تسلیم کرنا کافی نہیں‘

قاضی حسین احمد
اس عدالتی فیصلے سے پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے: قاضی حسین احمد
حزب اختلاف کے رہنماؤں نے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے چیف جسٹس کی بحالی کے فیصلے کو ’تسلیم‘ کرنے کے اعلان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے صدر اور وزیراعظم سمیت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی تیاری میں شامل تمام شخصیات کے استعفٰی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنا صدر اور وزیر اعظم کی بڑائی نہیں بلکہ مجبوری ہے کیونکہ ان کے پاس ایسا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

یہ بات حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں راجہ ظفرالحق (مسلم لیگ نواز شریف)، قاضی حسین احمد (جماعت اسلامی)، محمود خان اچکزئی (پونم) اور تحریک انصاف کے سردار اظہر نے ہفتے کے روز مسلم لیگ (ن) کے دفتر میں ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔

حزب اختلاف کے ان رہنماؤں نے وکلاء کو چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک چلانے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس تحریک کو ملک میں مکمل جمہوریت کی بحالی تک جاری رکھنے پر اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک نے چیف جسٹس کی بحالی کے فوراً بعد کہا تھا کہ اب وکلاء کی تحریک جمہوریت کی بحالی تک جاری رہے گی۔

عدالتی فیصلہ تسلیم کرنا صدر اور وزیر اعظم کی بڑائی نہیں بلکہ مجبوری ہے

مسلم لیگ کے راجہ ظفرالحق نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں رائج جنگل کے قانون کے اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے امید کی کرن ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ جسٹس خلیل رمدے کی عدالت کے فیصلے سے پاکستانیوں کے بجھے ہوئے دل زندہ ہوگئے ہیں۔

قاضی حسین کا کہنا تھا کہ بیس جولائی کے عدالتی فیصلے سے پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب عدالت کے سامنے کئی اہم سوال ہیں جن کا جواب عدالت کو تلاش کرنا ہو گا۔ ان میں سرفہرست یہ سوال ہے کہ کیا ایک فوجی ملک کا صدر بن سکتا ہے اور کیا ایک اسمبلی دو بار صدر کا انتخاب کر سکتی ہے؟

قوم پرست اتحاد ’پونم‘ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جمہوریت کی بحالی کی اس جدوجہد میں ہر ادارے نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ عدالت اپنا کام کرے گی جبکہ سیاسی جماعتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

راجہ ظفر الحق نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی جائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس جو تیس جولائی کو ہونا تھا، اب تیزی سے تبدیل ہوتی ملکی صورتحال کے پیش نظر تئیس جولائی کو اسلام آباد میں منعقد کیا جا رہا ہے جس میں حزب اخلاف کی جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

فضل الرحمان ’سازش ناکام ہوگئی‘
آمرانہ سازشیں پاش پاش ہوگئیں: فضل الرحمان
روشنی کی ایک کرن
’فیصلے سے داخلی مسائل کم ہوں گے‘
فائل فوٹوجسٹس کی حمایت
ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا
جنرل مشرفچیف جسٹس فیصلہ
’مشرف کے لیے بینظیر کی اہمیت بڑھ گئی‘
نواز شریفنواز شریف کا ردعمل
’مایوسی میں گھری قوم کے لیے امید کی کرن‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد