BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 16:39 GMT 21:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آمرانہ سازشیں پاش پاش ہوگئیں‘

فضل الرحمان
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ صدر جنرل مشرف وردی سمیت اقتدار چھوڑ دیں۔

چیف جسٹس کی بحالی کے بعد اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ریفرنس دائر کرنے والوں کا اب اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی حق باقی نہیں رہتا ہے۔

انہوں سپریم کورٹ کے فیصلے کو قوم کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے آمرانہ سازشیں پاش پاش ہوگئیں اور عدلیہ کے خلاف سازشیں کرنے والوں کی ناکامی ہوئی ہے۔انہو ں نے کہا کہ یہ فیصلہ جمہوری عمل کی مضبوطی کی ذریعے ثابت ہوگا۔

قائد حزب اختلاف نے عدلیہ کی آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں کامیابی پر سیاسی جماعتوں کو مبارکباد بھی پیش کی۔

متحدہ مجلس عمل کے صدر اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر اور وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں اور ایک عبوری حکومت قائم کی جائے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عدلیہ کی طرح الیکشن کمشن کو بھی خفیہ ایجنسیوں اور حکومتی قبضے سے نجات دلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عو ام اور وکلاء کو اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے تاکہ تمام ریاستی اداروں کو حکمرانوں کے چنگل سے نجات دلائی جا سکے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ تمام ادارے آزادی کے ساتھ دستوری حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے کے پابند ہوجائیں گے اور خاص طور پر فوج سیاست چھوڑ کر ملکی دفاع کی طرف متوجہ ہوجائے گی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر قوم پرست جماعتوں کے اتحاد ’پونم‘ کے سرکردہ راہنماؤں نے اس فیصلے کو ملک میں عدلیہ کی آزادی کی طرف پہلا قدم قرار دیا ہے۔

فیصلے سے ملک میں عدلیہ اور فوج کے درمیان ایک انارکی کی صورتحال پیدا ہوگی

پونم کے سابق صدر اور بزرگ بلوچ سیاستدان سردار عطاء اللہ مینگل نے کہا کہ صدر جنرل پرویزمشرف کی حکومت نے بلوچستان کے سینکڑوں کارکنوں کو کال کوٹھڑیوں میں ڈالا ہے اور بہت سے ابھی تک لاپتہ ہیں تو اس صورت میں یہ لوگ موجودہ سپریم کورٹ سے صرف توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ ازخود ایکشن لے کر ان کی پریشانیوں کا ازالہ کرے گی اور اگر سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ عوام کے حق میں ہے۔

سردار عطاء اللہ مینگل نے کہا کہ اس فیصلے سے ملک میں عدلیہ اور فوج کے درمیان ایک انارکی کی صورتحال پیدا ہوگی جو ملک کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہے تاہم اس سے بلوچستان کے لوگوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ بلوچستان کے لوگ قربانی دینے میں اپنا حصہ پہلے ہی ڈال چکے ہیں۔

چیف جسٹس فیصلہ
’مشرف کے لیے بینظیر کی اہمیت بڑھ گئی‘
’جج بنا دوں گا۔۔۔‘
عدالت میں دلچسپ اقوال سننے کو ملے
فائل فوٹوجسٹس کی حمایت
ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا
اسی بارے میں
چیف جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟
20 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد