بلوچستان: بحالی کے کاموں کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے تباہ شدہ گھروں کے مالکان کوپندرہ ہزار روپے فی گھر تقسیم کرنے کا عمل منگل سے شروع ہوگیا جس کے لیے وقاقی حکومت نے صوبے کوتیس کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں۔ بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے انتظامی سربراہان اور نمائندوں کا ایک اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں تمام ڈی سی اوز نے اپنے اپنے اضلاع میں نقصانات کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبائی سکریٹری داخلہ طارق ایوب نے کہا کہ صوبے میں سیلاب سے متاثرہ آدھے سے زیادہ اضلاع کو پندرہ کروڑ روپے جاری کر دیےگئے ہیں۔ یہ رقم ڈی سی اوز اور عوامی نمائندوں کی کیمٹیاں ان مالکان میں تقسیم کریں گی جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیس کروڑ روپے کی اشیائے خورد و نوش اوردیگرضروری چیزیں تقسیم کی گئی ہیں جن میں خیمے اور ادویات بھی شامل ہیں۔ صدر جنرل پرویزمشرف نے بلوچستان کے دورے کے دوران اعلان کہا تھا کہ جن لوگوں کےگھرتباہ ہوئے ہیں ان کوپندرہ ہزا رروپے میں ایسے گھر بنا کر دیے جائیں جوان کے ماضی کی گھروں سے ہر لحاظ سے بہترہوں گے۔ اگرچہ مرکزی حکومت کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے تھوڑی بہت امداد ہو رہی ہے لیکن پنجاب، سندھ اورسرحد کی حکومتوں نے اس طرح بلوچستان کے سیلاب زدہ افراد کی امداد نہیں کی ہے جیسی انہوں نے ماضی میں قدرتی آفات کے دوران کی تھی۔ اسی طرح غیرملکی اداروں کی جانب سے بھی ابھی تک صوبے میں بحالی کے کام اس تیزی سے شروع نہیں ہوئے ہیں جس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ بعض غیرملکی فلاحی اداروں کا موقف ہے کہ انہیں صوبائی حکومت کی جانب سے آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی سکریٹری داخلہ کاموقف ہے کہ تمام غیرملکی اداروں کوصوبائی حکومت سے این او سی لینا چاہیئے تا کہ وہ جہاں کام کرنا چاہتے ہیں وہاں ان کی حفاظت کوممکن بنایا جاسکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ادارے امداد دینا چاہتے ہیں انہیں بھی پہلے صوبائی حکومت کومطلع کرنا چاہیے تا کہ انہیں بتایا جا سکے کہ کہاں کہاں کس چیزکی ضرورت ہے۔
حالیہ طوفان اور سیلاب میں بلوچستان میں پچاس ہزار سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے ہیں، 176 افراد ہلاک اور195 لاپتہ ہیں جبکہ 5 لاکھ جانور ہلاک ہوئے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے برعکس آزاد ذرائع جانی اور مالی نقصان کا تخمینہ اس سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ صوبائی حکومت کےمطابق فصلوں اور سرکاری املاک کی تباہی کا اندازہ لگایا جارہا ہے تاہم یہ نقصان اربوں روپے کا ہے اس بارے میں جلد ہی وفاقی حکومت کورپورٹ پیش کی جائےگی۔ بلوچستان میں جھل مگسی، گنداوہ، خصدار، نصیرآباد اور واشوک ماشکیل میں ابھی تک ایسے کئی علاقے ہیں جہاں چھبیس جون کے بعد سے اب تک ہزاروں لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ریلیف کمشنر خدا بخش بلوچ کے مطابق ان علاقوں میں لوگوں کوخوراک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹراستعمال کیۓ جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ابھی تک تمام لوگوں کوخیمے ملے نہیں ہیں۔ صوبائی سکریٹری داخلہ طارق ایوب کے مطابق چھ ہزار خیمے روزانہ پنجاب سے منگوائے جا رہے ہیں تاہم ابھی تک پچاس ہزار مذید خیموں کی ضرورت ہے۔ سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے حکومتی اقدامات پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے شدید تنقد کی ہے۔ ان جماعتوں کا موقف ہے کہ صوبے میں اس طرح کے اقدامات نہیں ہو رہے ہیں جسکی فوری ضرورت ہے۔ بقول انکے کہ حکومت کی نااہلی اورغفلت کی وجہ بڑے پیمانے پرجانی اورمالی نقصان ہوا ہے۔
دوسری جانب منگل کو بھی بلوچستان سول سیکریٹریٹ میں ہزاروں ملازمین نے دوگھنٹے کی قلم چھوڑ ہڑتال جاری رکھی۔ ان کامطالبہ ہے کہ جب تک ایک خاتون صوبائی وزیر نسیرین کھیتران کے شوہر اورقبائلی رہنما عبدالرحمان کھیتران کو گرفتارنہیں کیا جاتا انکی ہڑتال جاری رہے گی۔ دریں اثناء وزیراعلی کی صدارت میں بلوچستان کے سکریٹریز کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلی میرجام محمد یوسف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ عبدالرحمان کھیتران کو جلد ہی گرفتار کیا جائے گا جن پر سکریٹری بہبود آبادی انیس احمد گولہ پرتشدد کرنے کا الزام ہے۔ واضح رہے کہ بہبود آبادی کا قلمدان عبدالرحمن کھیتران کی اہلیہ نسرین کھیتران کے پاس ہے۔ سکریٹریٹ ملازمین ان کی برطرفی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں گیارہ لاکھ متاثرین، امداد کی اپیل نہیں02 July, 2007 | پاکستان 200 سےزائدہلاک، سینکڑوں لاپتہ03 July, 2007 | پاکستان سیلاب: امدادی کارروائیاں تیز کریں06 July, 2007 | پاکستان نئےطوفان کا خطرہ، امداد کی اپیل نہیں01 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||