BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 May, 2007, 16:54 GMT 21:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبرانِ عدلیہ کن باتوں پر ناراض؟

سید شریف الدین پیرزادہ
ججوں اور سید شریف الدین پیرزادہ کی ملاقات اتفاقیہ تھی: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے ذرائع ابلاغ کو سپریم کورٹ کے ججوں اور ان کے سامنے مقدمات کی رپورٹنگ سے متعلق گائیڈ لائن دینے کے چند گھٹنوں بعد ایک اور بیان جاری کیا ہے جس میں عدالت نے ان خصوصی طور ان خبروں کا ذکر کیا ہے جس سے عدلیہ کے ممبران ناراض ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس اور ان کی طرف سے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست کے دائر ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ میں سپریم کورٹ کے ججوں اور سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبران کو بدنام کرنے کی ایک باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں شائع ہوئی ہیں کہ جسٹس راجہ فیاض اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہم زلف ہیں۔ سپریم کورٹ کے ترجمان نے کہا کہ یہ خبر جھوٹی اور شرانگیز ہے اور جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس راجہ فیاض احمد کی بیگمات کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک مقامی انگریزی اخبار میں خبر چھپی ہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کے دو ججوں نےصدر پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ اور اٹارٹی جنرل مخدوم علی خان کے ساتھ اسلام آباد کلب میں لنچ کیا تھا جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ لنچ جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کے فیصلے پر اثر پر سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ججوں اور سید شریف الدین پیرزادہ کی ملاقات اتفاقیہ تھی اور اس کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے سامنے درخواستوں پر اثر انداز ہونے کی قیاس آرئیاں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ کچھ عناصر نے یہ بھی کہنا شروع کر رکھا ہے کہ جسٹس ایم جاوید بٹر کی بہن سپریم کورٹ کے باہر جسٹس افتخار محمد چودھری کےحق میں مظاہرے کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے اور کسی شخص کے احتجاج کی بنیاد پر جسٹس جاوید بٹر پر شکوک کا اظہار کرنا انتہائی قابل نفرت عمل ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ پانچ مئی کو ایک پرائیوٹ چینل کے ایک ٹاک شو میں ایسے تبصرے کیےگئے جن میں ججوں کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسے تبصرے توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے ترجمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ان کے ذاتی تعلقات ہرگز انصاف کی فراہمی میں روکاوٹ نہیں بنیں گے۔

اسی بارے میں
جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟
05 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد