سپریم جوڈیشل کونسل: سماعت جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس افتخار محمدچودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت بدھ کو دوبارہ شروع ہو گئی ہے جو کہ دو دن جاری رہے گی۔ جسٹس افتخار سپریم کورٹ پہنچ چکے تھے اور پونے دس بجے سے پہلے ہی یہ سماعت شروع ہو گئی۔ سپریم جوڈیشل کونسل اپنی پچھلی چھ نشتوں میں جسٹس افتخار کے خلاف اختیارت کے ناجائز استعمال کے الزام پر سماعت ابھی تک شروع بھی نہیں کر پائی کیونکہ اب تک وہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے دائر کی جانے والی مختلف درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔ جسٹس افتخار نے سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے خلاف الزامات کی سماعت کھلی عدالت میں کی جائے۔ حکومتی وکلاء نے اس کی مخالفت کی تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس کی سماعت کھلی عدالت میں کرنے یا کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ کر چکی ہے۔ جسٹس افتخار نے سپریم جوڈیشل کونسل کے پانچ میں سے تین ججوں پر اعتراض کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس افتخار حسین کا اس مقدمے سے مفاد وابستہ ہے لہذا ان ججوں سے انہیں انصاف کی توقع نہیں ہے۔ چوبیس اپریل کو بند کمرے میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس افتخار محمد چودھری کو غیر فعال بنائے جانے اور ان کو جبری رخصت پر بھیجے جانے کے فیصلے پر بحث ہوئی تھی۔ جسٹس افتخار کے وکلاء بدھ کو پھر اپنے دلائل شروع کر رہے ہیں۔ دوسری جانب جسٹس افتخار کی طرف سے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی آئینی درخواست کی سماعت 7 مئی (یعنی پیر کے روز) شروع ہو رہی ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کے لیے پانچ رکنی بینچ کو تشکیل دے دیا ہے جو کہ سات مئی سے روزانہ اس مقدمے کی سماعت کرے گی۔ وکلاء کے نمائندوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوران سپریم کورٹ کے باہر اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ |
اسی بارے میں ریفرنس پر سماعت دو مئی تک ملتوی24 April, 2007 | پاکستان سماعت: حکم امتناعی کی اپیل27 April, 2007 | پاکستان جسٹس پیٹیشن، اہم قانونی نکات 26 April, 2007 | پاکستان آئینی پٹیشن اور ریفرنس، تصادم کا خطرہ24 April, 2007 | پاکستان ’ایسا انوکھا واقعہ پہلے نہیں دیکھا‘26 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||