BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف دور اور مزدوروں کے حقوق

یوم مزدور
محنت کے روزانہ اوقات کار آٹھ سے بارہ گھنٹے کر دیئے گئے ہیں
جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں ملک کے لیبر قوانین میں ایسی کئی ترامیم کی گئی ہیں جن کے بارے میں مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کے ذریعے محنت کش طبقے کے حقوق پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔

مشرف دور میں کئی سرکاری محکموں میں یونین سازی پر پابندی عائد کی گئی یا ان کی سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہیں۔ فیکٹری کلوزڈ ڈے قانون میں ترمیم کی گئی جس کے تحت اب ہفتے میں ایک روز کارخانہ بند کرنا ضروری نہیں رہا۔

محنت کے روزانہ اوقات کار آٹھ سے بارہ گھنٹے کر دیئے گئے ہیں جبکہ کانٹریکٹ نظام کی ایک ایسی شق صنعتی قانون میں شامل کی گئی جس کے بعد مالکان کو کانٹریکٹ پر بھرتیاں کرنے کا اختیار دیاگیا اور مزدور مستقل ملازمتوں سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔

ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپین کے چیئرمین چودھری منظور کہتے ہیں کہ مشرف حکومت میں ملازمتوں سے برطرفی کا آرڈیننس نافذ کیا گیا جس کے تحت اب کسی بھی سرکاری ملازم کو وجہ بتائے بغیر نکالا جاسکتا ہے۔

اسی حوالے سے سنہ دو ہزار دو میں انڈسٹریل ڈسپیوٹ ریزولوشن آرڈیننس (آئی آر او) متعارف کرایا گیا جس کے تحت سے ٹریڈ یونین کے نقطہ نظر پر ہی پابندی عائد کردی گئی۔

ملازمتوں سے برطرفی
 مشرف حکومت میں ملازمتوں سے برطرفی کا آرڈیننس نافذ کیا گیا جس کے تحت اب کسی بھی سرکاری ملازم کو وجہ بتائے بغیر نکالا جاسکتا ہے
چوہدری منظور

پاکستان لیبر پارٹی کے سیکرٹری جنرل فاروق طارق کا کہنا ہے کہ لیبر قوانین میں ترامیم کے بعد مزدور کو لیبر کورٹ سے انصاف ملنا بہت مشکل ہوگیا ہے، اس کے علاوہ سوشل سکیورٹی کے فوائد اور سالانہ چھٹیاں بھی کم کردی گئی ہیں۔

پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے رضاکار رفعت باوا کا کہنا ہے کہ آئی آر او کو ہائی کورٹ نے انیس سو انہتر میں پی ٹی وی ورکرز کی ایک درخواست پر آئین سے متصادم قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یونین سازی کا حق آئین میں حاصل ہے۔

رفعت باوا کے مطابق یونین سازی کا حق تو نو آبادیاتی نظام میں بھی حاصل تھا مگر اس مشرف حکومت نے چھین لیا ہے۔

تاہم وفاقی وزیر محنت غلام سرور کا کہنا ہے کہ سوائے دفاعی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کسی بھی ادارے میں یونین سازی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تمام صنعتوں میں مزدور تنظیمیں موجود ہیں۔

مشرف دور حکومت میں سرکاری اداروں کی ایک بڑی تعداد کی نجکاری کی گئی جن میں سیمنٹ اور چینی کے کارخانے، آئل ریفائنریز، کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن بھی شامل ہے۔

سٹیل ملز اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ کی نجکاری کے خلاف محنت کشوں نےبھرپور تحریکیں چلائیں مگر انہیں ریلیف عدلیہ سے ہی ملا تھا۔

حکومت غیر منظم سیکٹر کے کارکنوں کو بھی تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہے

لیبر پارٹی کے فاروق طارق کا کہنا ہے کہ نجکاری کے عمل سے گزشتہ سات سالوں میں پانچ لاکھ مزدور بیروزگار ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق نجکاری کے خلاف پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے ملازمین نے پر امن تحریک چلا کر مزدور تحریک کو حوصلہ دیا۔

پی ٹی سی ایل لائینز یونین کے چیئرمین حاجی خان بھٹی کہتے ہیں کہ حکومت نے نجکاری کے عمل کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے یونین کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں تاکہ کوئی مزاحمت نہ ہو۔

وفاقی وزیر غلام سرور کا کہنا ہے کہ نجکاری کا فارمولا پچھلے ادوار میں بنایا گیا تھا، جس پر اس دور میں بس سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نجکاری کے فوائد ڈاؤن سائزنگ کی زد میں آنے والے محنت کشوں کو دئے جا رہے ہیں اور مزدور اس عمل سے مطمئن ہیں۔

وزیر محنت کے بقول یہ پروپیگنڈا غلط ہے کہ اوقات کار میں اضافہ گیا کیا ہے بلکہ اوور ٹائم جو آدھا گھنٹہ ہوتا تھا اور مزدور یا ملازمین چار پانچ گھنٹہ لگاتے تھے حکومت نے اسے صرف قانونی شکل دی ہے۔

وفاقی وزیر برائے محنت اور افرادی قوت غلام سرور کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے محنت کشوں کی فلاح اور بہبود کے لیے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے غیر ہنر مند محنت کشوں کی تنخواہوں، پینشن، شادی گرانٹ، بچوں کی تعلیم کے لیے اسکالرشپ اور اموات کے معاوضے میں اضافہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر منظم سیکٹر کے کارکنوں کو بھی تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ٹریڈ یونین میں دلچسپی کم
 محنت کشوں کی ایک فیصد تعداد بھی ٹریڈ یونین کا حصہ نہیں ہے جبکہ سات سال پہلے یہ تعداد پانچ فیصد تھی
فاروق طارق

ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپین کے چودھری منظور کہتے ہیں کہ موجودہ حکمران اس قدر خراب قوانین لیکر آئے ہیں کہ اب جب مزدور بولتا ہے تو اس کے اوپر کبھی ایک قانون کی کبھی دوسرے قانون کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق مزدور یونین سیاسی تنظیموں کی اہم قوت تھی، لیکن جکڑ بندیوں کی وجہ سے قیادت اور تحریک میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔

فاروق طارق بتاتے ہیں کہ اب محنت کشوں کی ایک فیصد تعداد بھی ٹریڈ یونین کا حصہ نہیں ہے جبکہ سات سال پہلے یہ تعداد پانچ فیصد تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی سیاسی جماعتیں پر جاگیرداوں اور سرمایہ داروں کا قبضہ ہے اور بائیں بازو کی جماعتیں چھوٹی ہیں جبکہ مزدور مذہبی جماعتوں کا کبھی موضوع ہی نہیں رہے۔

پاکستان میں مزدور سیاست اور تحریک نے فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے بڑے بڑے شاعر پیدا کیے۔ اس تحریک کی باگ دوڑ دادا امیر حیدر، مرزا ابراہیم، شمیم واسطی، اعزاز نذیر اور عثمان بلوچ جیسے مزدور رہنماؤں کے ہاتھ میں رہی۔ حسن ناصر اور نذیر عباسی سامنے آئے جنہوں نے مارشل لاء کی اذیت گاہوں میں موت کو تو قبول کیا لیکن اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔

مزدور بچےہیں تلخ بہت۔۔۔۔
پشاور کی سڑکوں پر رہنے والے مزدور بچے
آئی ایل او رپورٹ
’پاکستان: مزدور بچوں کی تعداد کم ہوئی ہے‘
مقامی مزدور’مزدور نہیں ملتے‘
تعمیرِ نو کے لیے مزدوروں کی کمی کا سامنا
کارکن تیس سال کا انتظار
سرحد کے کان کنوں کے لیے مراعات کا اعلان
کملاتے پھولوں کا درد
’ہاتھ پر جلنے کا یہ زخم تو کام کا حصہ ہے‘
مزدوراورتلخئی اوقات
بھٹہ مزدورگرمی اوردھوپ کیوں چاہتے ہیں
مزدوروں کا عالمی دنمزدوروں کا عالمی دن
یکم مئی کا دن کیسے منایا گیا؟ تصاویر میں۔۔۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد