مزدور اور تلخئی اوقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیخوپورہ کے پاس چالیس سال سے اینٹیں بنانے کے بھٹہ پر کام کرنے والے بوڑھے نذیر مسیح کا کہنا ہے کہ وہ خدا سے دھوپ اور گرمی کی دُعا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بارش اور سردی میں اُن کا کام بند ہوجاتا ہے اور اُن کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ شیخوپورہ سے فیصل آباد جاتے ہوئے پندرہ کلومیٹر دور ولی پور بوڑہ نامی گاؤں میں اپنی بیوی اور بچوں سمیت کام کرنے والا ستر سالہ نذیر پندرہ ہزار آبادی کے اس گاؤں کی اس نصف آبادی میں شامل ہے جو دہکتے ہوئے سورج کے نیچے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرتی ہے۔ نذیر مسیح کا خاندان بھٹہ پر ایک سو روپے روزانہ اُجرت پر کام کرتا ہے کیونکہ ان کی اُجرت کے نوے روپے اس پیشگی ادائیگی میں سے کاٹ لیے جاتے ہیں جو انہوں نے بیماری، شادی اور موت کے مختلف موقعوں پر ٹھیکیدار سے لی تھی اور سود ملا کر جس کی رقم اب ایک لاکھ روپے تک جا پہنچی ہے۔ ٹھیکیدار ایک ہزار اینٹیں بنانے کے ایک سو نوے روپے اجرت دیتا ہے۔ پیشگی ادائیگی کے نظام میں جکڑا ہوا نذیر مسیح، اس کی بیوی، دو بیٹیاں اور چار بیٹے ایک بھٹہ سے دوسرے بھٹے پر فروخت ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی کہانی پاکستان بھٹہ مزدور یونین کے مطابق ملک کے پندرہ ہزار بھٹوں کے کم سے کم اٹھارہ لاکھ اُن مزدوروں کی مشترکہ کہانی ہے جو بندشی مزدور ہیں کیونکہ وہ اپنی مرضی سے نہ ملازمت اختیار کرسکتے ہیں، نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ملازمت کی شرائط طے کرنے میں ان کا کوئی ہاتھ ہوتا ہے۔ ہفتے کو لاہور میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم سپارکو نے پنجاب میں جبری مشقت یا بندشی مزدوری کی صورتحال کے موضوع پر ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا۔
انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان کے بقول جب تک بڑے لوگوں کی معیشت کو تحفظ نہیں دیا جاتا بچوں کی مزدوری کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا موقف تھا کہ بچوں کے حقوق کا مسئلہ عورتوں کے حقوق اور مزدوروں کے حقوق سے جڑا ہوا ہے۔ آئی اے رحمان نے کہا کہ آج ملک میں مزدوروں کے حقوق اس سے کم ہیں جو انیس سو پینتالیس میں تھے اور ایکسپورٹ پراسیسینگ زونز میں حکومت نے قانون کے تحت جبری مزدوری کو جائز قرار دے دیا ہے۔ آئی اے رحمان نے ورکشاپ میں کہا کہ جبری مشقت کا قانون تو بن گیا لیکن حکومت اور این جی اوز اس پر عمل درآمد نہیں کراسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت ہر ضلعےمیں جبری مشقت روکنے کے کام کی نگرانی کے لیے ویجیلنس کمیٹیاں بننی تھیں لیکن وہ نہیں بنائیں گئیں۔ ملتان میں امن و انصاف کمشین نامی تنظیم کے لیے کام کرنے والے ڈاکٹر الون نے ورکشاپ میں بتایا کہ ملتان کی تین تحصیلوں، ملتان، جلالپور پیروالا اور شجاع آباد، میں کل ایک سو نو بھٹے ہیں جن کے مزدور بھٹوں پر بنی ہوئی جھگیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور وہاں پر ہی ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔ بھٹے عام طور سے شہر سے باہر بنائے جاتے ہیں اور ان پر کام کرنے والے شہر سے آنے جانے کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے جس وجہ سے وہ بھٹوں کے گرد ہی جھونپڑیوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ڈاکٹر الون کے مطابق یہ بندشی مزدور ایک بھٹہ سے دوسرے بھٹے پر فروحت ہوتے رہتے ہیں اور وہ اینٹیں بنانے کے لیے جس پانی سے مٹی گوندھتے ہیں وہ بھی زیادہ تر گندہ گٹر کا پانی ہوتا ہے۔ ان کے سروے کے مطابق ملتان میں ایک بھٹہ مزدور کا خاندان سال میں اوسطاً دو سو ساٹھ دن کام کرتاہے جس کی اسے سالانہ دو لاکھ ساٹھ ہزار روپے اجرت ملتی ہے جس میں سے آدھی رقم پیشگی کی سود سمیت واپسی کے طور پر کاٹ لی جاتی ہے اور یوں پورے خاندان کو اٹھہتر روپے روزانہ کی اجرت پر زندگی کاٹنا ہوتی ہے۔
جبری مشقت کے خلاف سپریم کورٹ کے مشہور فیصلہ کے بعد انیس سو بانوے میں جبری مزدوری کے خاتمہ کا قانون منظور کیا گیا تھا جس میں تمام بھٹوں کو رجسٹرڈ کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن امن و انصاف کمشین کے سروے کے مطابق ملتان ضلع میں صرف بیس فیصد بھٹے محکمہ محنت کے پاس رجسٹرڈ ہیں اورباقی غیر رجسٹرڈ۔ پاکستان بھٹہ مزدور یونین کے محمود بٹ کے مطابق لاہور کے نواح میں قصور ضلع میں ڈھائی سو بھٹے ہیں جن میں سے صرف ایک بھٹہ رجسٹرڈ ہے۔ اس سال مارچ میں وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے صوبہ میں اینٹوں کے تمام بھٹوں کو جلد رجسٹرڈ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔ محکمہ محنت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر خالد خان کہتے ہیں کہ بھٹے تو ترجیحات میں بہت نیچے تھے اب تو حکومت نے لیبر انسپکٹرز کو رجسٹرڈ فیکٹریوں کے معائنے سے بھی منع کردیا ہے۔ اس سروے کے مطابق ہر بھٹہ پر ایک سو تیس سے ڈیڑھ سو مزدور کام کرتے ہیں لیکن بھٹہ کا مالک ان کی تعداد آٹھ سے دس ظاہر کرتا ہے کیونکہ باقی لوگ ٹھیکیدار کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ اس طرح جو بھٹے رجسٹرڈ بھی ہیں تو ان کے مزدور رجسٹرڈ نہیں ہوتے جس سے انہیں قانون کے مطابق مراعات مل سکیں۔ امن و انصاف کمیشن چند برسوں کی کوششوں کے بعد صرف ملتان ضلع کے پونے آٹھ ہزار بھٹہ مزدوروں میں سے صرف ڈیڑھ سو لوگوں کے شناختی کارڈ بنواسکا کیونکہ کمیشن کے بقول ان لوگوں کے پاس نہ تو پیدائش کی سند ہوتی ہے نہ کوئی سرکاری دستاویز جس سے ان کی پاکستانی شہریت ثابت ہوسکے۔ پنجاب میں یہ معاملہ اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے کیونکہ بھٹہ مزدور یونین کے مطابق ستر فیصد جبری مزدور مسیحی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
پنجاب محکمہ محنت کے افسر سعید احمد اعوان تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے آٹھ کنوینشنز پر دستخط کیے ہیں جن میں سے دو کا تعلق جبری مزدوری کے خاتمہ سے ہے لیکن ان پر عمل درآمد میں دلچسپی پہلی بار انیس سو بانوے میں لی گئی جب ایک جبری مزدوری کا قانون بنایا گیا لیکن اس پر عمل نہیں ہوسکا اور اس کے تحت ویجیلنس کمیٹیاں نہیں بنائی جاسکیں۔ انسانی حقوق کے کارکن راشد رحمان کہتے ہیں کہ جبری مزدوری کو ایک اقتصادی معاملہ کے بجائے ایک انسانی نطقہ نطر سے دیکھنے کی ضرورت ہے لیکن حکومتی اہلکار جبری مشقت کے معاملہ میں پہلی بار کچھ دلچسپی لیتے نطر آتے ہیں جس کی وجوہ خود ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی ہیں۔ محکمہ محنت کے افسر سعید احمد اعوان کا کہنا تھا کہ اب تجارت اور برآمدت بھی ان قوانین پر عمل درآمد سے مشروط ہوگیا ہے اوراگر پاکستان یورپین یونین کی کچھ شرائط پر عمل کرے تو اسے سی ایس پی کا تجارتی منصب مل سکتا ہے جس سے کئی اشیاء کی برآمدات پر یورپی ملکوں میں ڈیوٹیاں نہیں لگیں گی اور پاکستان کی برآمدات کوسالانہ پچاس کروڑ روپے کا فائدہ ہوسکتا ہے۔
تجارت میں عالمگیریت اور ڈبلیو ٹی او قواعد کے مدنظر جبری مشقت کے خاتمہ کے لیے اب تک جبری مزدوری کے خاتمہ کے لیےملک میں جو کچھ کیا گیا ہے ان میں ایک کام تو یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے اٹھارہ لاکھ سے زیادہ جبری مزدوروں کے کے لیے دس کروڑ روپے کی خطیر رقم سے ایک قومی فنڈ قائم کیا ہے جس سے سرکار کے بقول جبری مزدوروں کی بہتری کے لیے کام کیے جائیں گے۔ پنجاب حکومت اگلے چند ماہ میں جبری مزدوروں کے لیے قانونی امداد دینے کے لیے لیگل ایڈ سروس یونٹ بھی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے اور ہر ضلعے میں جبری مزدوری کے گڑھ اینٹوں کے بھٹوں کا سروے کرانے کا ارادہ بھی ظاہر کہا گیا ہے۔ جب تک حکومت اور این جی اوز مشاورتی ورکشاپوں کے انعقاد کے علاوہ بھٹہ پر کام کرنے والے جبری مزدوروں کے لیے کوئی ٹھوس کام کرسکیں پنجاب کے پندرہ لاکھ سے زیادہ یہ مزدور دھوپ اور گرمی کی دُعا کرتے رہیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||