پسند کی شادی پر دو لڑکیوں کا قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کے مطابق پنجاب کے دو شہروں میں دو لڑکیوں کو پسند کی شادی کرنے پر عزیزوں نے قتل کر دیا۔ یہ لڑکیاں کچھ عرصہ قبل گھروں سے لاپتہ ہوگئی تھیں لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ انہیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ لاہور کی گلشن راوی کالونی کی رہائشی مدیحہ کی لاش نواحی علاقے مریدکے کے قریبی کھیتوں سے ملی ہے اور تھانہ مرید کے انسپکٹر محمد یار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس قتل میں مقتولہ کے والد، سگے اور رشتے کے بھائی ملوث ہیں۔ مدیحہ کی شناخت اس کے کپڑوں سے ملنے والے ایک کاغذ سے ہوئی جس پر دو ٹیلی فون نمبر لکھے ہوئے تھے۔ انہیں نمبروں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کا شوہر، محمد اکبر جیل میں ہے۔ پولیس کے مطابق مدیحہ نے دو برس قبل اپنے والدین کی مرضی کے خلاف محمد اکبر سے شادی کی تھی اورگھر بار کو چھوڑ دیا۔ انسپکٹر محمد یار نے بتایا کہ مدیحہ کے والد نے اس کا ایک جعلی نکاح نامہ بنوا کر لاہور کے تھانے میں حدود آرڈنینس کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے مدیحہ اور اس کے شوہر اکبر کو گرفتار کرکے جیل بھجوا دیا۔ مدیحہ نے والدین کے دباؤ کے باوجود پولیس کو اپنے شوہر کے حق میں بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے محمد اکبر سے شادی کی ہے اور اسے اغواء نہیں کیا گیا۔ چند روز پہلے مدیحہ ضمانت پر رہا ہوئیں اور اب انہیں یہی گواہی سنیچر کومقامی عدالت میں بھی دینی تھی جس کے بعد پولیس انسپکٹر کے بقول اس کا شوہر بھی ضمانت پر رہا ہو سکتا تھا۔
پولیس انسپکٹر کے بقول اس کے گھر والوں نے یہ نوبت نہیں آنے دی۔ لاش پر موجود زخموں سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔ پولیس نے لڑکی کے سسر کے بیان پر مقدمہ درج کرلیا ہے لیکن ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔ پنجاب کے وسطی شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سولہ سالہ شاہدہ بی بی کے قتل کاالزام اس کے حقیقی چچا پر ہے۔ شاہدہ بی بی بھی دو ڈھائی ماہ قبل مرضی کی شادی کرنے کے لیے گھر چھوڑ کر چلی گئی تھیں لیکن پھر کسی وجہ سے واپس اپنے چچا کے گھر لوٹ آئیں۔ تھانہ اروتی ٹوبہ ٹیک سنگھ کے انچارج وحید شاہد نے بتایا کہ اس کے چچا زوار حسین نے چند روز اسے اپنے گھر رکھا اور پھر اسے اس کے والد کے گھر چھوڑ آنے کے بہانے دریائے راوی کے کنارے لے گیا جہاں ایس ایچ او کے بقول کلہاڑی کے وار کر کے لڑکی کے ٹکڑے کیے اور لاش دریا میں بہا دی۔ پولیس کے مطابق لڑکی کے دوسرے چچا لعل محمد نے گاؤں والوں کو اکٹھا کرکے ملزم زوار حسین کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ پولیس کے بقول ملزم نے اعتراف جرم کیا ہے اور کہا ہے کہ لڑکی کی وجہ سے انہیں پوری برادری اور علاقے میں بے عزتی کا سامنا تھا جس کی وجہ سے اس نے اپنی بھتیجی کا قتل کیا۔ پولیس نے خون آلود کلہاڑی برآمد کرلی ہے اور دریا کے کنارے سے خون آلود مٹی کے نمونے بھی حاصل کر لیے ہیں۔ پولیس کے مطابق آخری اطلاعات کے مطابق غوطہ خور لاش تلاش کر رہے تھے۔ |
اسی بارے میں غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری24 November, 2005 | پاکستان ملتان: ’غیرت کے نام پر‘ تین قتل24 September, 2005 | پاکستان ’غیرت کے نام پر‘ ایک اور قتل08 September, 2005 | پاکستان ’غیرت‘ کے نام ایک اور قتل 01 August, 2005 | پاکستان پسند کی شادی: میاں بیوی قتل18 May, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||