BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 April, 2007, 14:17 GMT 19:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پسند کی شادی پر دو لڑکیوں کا قتل

 دستاویزی فلم
ایک لڑکی کے ایک چچا اسے اس کے والدین کے گھر چھوڑنے کے بہانے دریائے راوی پر لے گئے اور کلہاڑی سے ٹکڑے کر کے دریا میں بہا دیا
پولیس کے مطابق پنجاب کے دو شہروں میں دو لڑکیوں کو پسند کی شادی کرنے پر عزیزوں نے قتل کر دیا۔

یہ لڑکیاں کچھ عرصہ قبل گھروں سے لاپتہ ہوگئی تھیں لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ انہیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔

لاہور کی گلشن راوی کالونی کی رہائشی مدیحہ کی لاش نواحی علاقے مریدکے کے قریبی کھیتوں سے ملی ہے اور تھانہ مرید کے انسپکٹر محمد یار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس قتل میں مقتولہ کے والد، سگے اور رشتے کے بھائی ملوث ہیں۔

مدیحہ کی شناخت اس کے کپڑوں سے ملنے والے ایک کاغذ سے ہوئی جس پر دو ٹیلی فون نمبر لکھے ہوئے تھے۔ انہیں نمبروں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کا شوہر، محمد اکبر جیل میں ہے۔

پولیس کے مطابق مدیحہ نے دو برس قبل اپنے والدین کی مرضی کے خلاف محمد اکبر سے شادی کی تھی اورگھر بار کو چھوڑ دیا۔

انسپکٹر محمد یار نے بتایا کہ مدیحہ کے والد نے اس کا ایک جعلی نکاح نامہ بنوا کر لاہور کے تھانے میں حدود آرڈنینس کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے مدیحہ اور اس کے شوہر اکبر کو گرفتار کرکے جیل بھجوا دیا۔

مدیحہ نے والدین کے دباؤ کے باوجود پولیس کو اپنے شوہر کے حق میں بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے محمد اکبر سے شادی کی ہے اور اسے اغواء نہیں کیا گیا۔

چند روز پہلے مدیحہ ضمانت پر رہا ہوئیں اور اب انہیں یہی گواہی سنیچر کومقامی عدالت میں بھی دینی تھی جس کے بعد پولیس انسپکٹر کے بقول اس کا شوہر بھی ضمانت پر رہا ہو سکتا تھا۔

والد نے حدود کا مقدمہ کرا دیا
 پسند کی شادی کی تو والد نے ایک جعلی نکاح نامہ بنوا کر لاہور کے تھانے میں حدود آرڈنینس کے تحت مقدمہ درج کرا دیا۔ جس کے بعد پولیس نے مدیحہ اور اس کے شوہر اکبر کو گرفتار کرکے جیل بھجوا دیا

پولیس انسپکٹر کے بقول اس کے گھر والوں نے یہ نوبت نہیں آنے دی۔ لاش پر موجود زخموں سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔

پولیس نے لڑکی کے سسر کے بیان پر مقدمہ درج کرلیا ہے لیکن ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

پنجاب کے وسطی شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سولہ سالہ شاہدہ بی بی کے قتل کاالزام اس کے حقیقی چچا پر ہے۔ شاہدہ بی بی بھی دو ڈھائی ماہ قبل مرضی کی شادی کرنے کے لیے گھر چھوڑ کر چلی گئی تھیں لیکن پھر کسی وجہ سے واپس اپنے چچا کے گھر لوٹ آئیں۔

تھانہ اروتی ٹوبہ ٹیک سنگھ کے انچارج وحید شاہد نے بتایا کہ اس کے چچا زوار حسین نے چند روز اسے اپنے گھر رکھا اور پھر اسے اس کے والد کے گھر چھوڑ آنے کے بہانے دریائے راوی کے کنارے لے گیا جہاں ایس ایچ او کے بقول کلہاڑی کے وار کر کے لڑکی کے ٹکڑے کیے اور لاش دریا میں بہا دی۔

پولیس کے مطابق لڑکی کے دوسرے چچا لعل محمد نے گاؤں والوں کو اکٹھا کرکے ملزم زوار حسین کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔

پولیس کے بقول ملزم نے اعتراف جرم کیا ہے اور کہا ہے کہ لڑکی کی وجہ سے انہیں پوری برادری اور علاقے میں بے عزتی کا سامنا تھا جس کی وجہ سے اس نے اپنی بھتیجی کا قتل کیا۔

پولیس نے خون آلود کلہاڑی برآمد کرلی ہے اور دریا کے کنارے سے خون آلود مٹی کے نمونے بھی حاصل کر لیے ہیں۔ پولیس کے مطابق آخری اطلاعات کے مطابق غوطہ خور لاش تلاش کر رہے تھے۔

کارین جو قبرستانکاریوں کا قبرستان
خصوصی ویڈیو: ’دوسری دنیا میں بھی تنہا‘
کارو کاریایک قبیح قبائلی رسم
کارو کاری تہذیب کے منہ پر تازیانہ: حسن مجتبٰی
غیرت کے نام پرغیرت کے نام پر
چھ سال میں چار ہزار افراد سے زائد ہلاک
اسی بارے میں
غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری
24 November, 2005 | پاکستان
’غیرت کے نام پر‘ ایک اور قتل
08 September, 2005 | پاکستان
’غیرت‘ کے نام ایک اور قتل
01 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد