شیخ عادل کے طبی معائنے کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر شیروانی نے سنٹرل جیل حیدرآباد میں قید امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ملزم شیخ عادل کا طبی معائنہ کرانے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم انہوں نے شیخ عادل کے بڑے بھائی شیخ اسلم کی تحریری درخواست پر جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بھائی پر جیل میں شدید تشدد کیا جا رہا ہے اور ان کا سر بھی مونڈھ دیا گیا ہے۔ درخواست میں انہوں نے کہا کہ اپنی ہمشیرہ کے ساتھ شیخ عادل سے منگل کو جیل میں ملاقات کی تو دیکھا کہ وہ بری طرح زخمی ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق شیخ عادل سے زخمی ہونے کے باوجود جیل میں مشقت کرائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ مظفر عالم صدیقی اور ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ نعیم غوری سے شکایت کی کہ تو انہوں نے کہا کہ حساس اداروں کے حکم پر شیخ عادل کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے اس لیے وہ مجبور ہیں۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے
شیخ عادل اور ان کے ساتھی ملزمان سلمان ثاقب اور فہد نسیم کو ڈینئل پرل کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت حیدرآباد نے سال دو ہزار دو میں عمر قید کی سزا سنائی تھی جب کہ مقدمے کے مرکزی کردار شیخ عمر کو سزائے موت سنائی تھی۔ شیخ عمر نے بھی والد شیخ سعید کے ذریعے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو تحریری شکایت کی تھی کہ ان کے ساتھ جیل میں غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے، جس پر فاضل جج نے سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ عبدالوحید شیخ کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ | اسی بارے میں پرل کا قتل، مزید تفصیلات جاری17 March, 2007 | آس پاس میں پرل کا قاتل ہوں:خالد شیخ محمد15 March, 2007 | آس پاس عمر شیخ کی اپیل پر سماعت ملتوی12 December, 2006 | پاکستان عمر شیخ اپیل: چار سال بعد سماعت11 December, 2006 | پاکستان ’پرل قتل سے عمر شیخ لاعلم تھے‘27 September, 2006 | پاکستان عمر شیخ کراچی جیل میں منتقل18 May, 2006 | پاکستان ملزم کراچی پولیس کے حوالے04 August, 2005 | پاکستان عمر شیخ اسلام آباد منتقل18 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||