پرل کا قتل، مزید تفصیلات جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی حکام نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے’ماسٹر مائنڈ‘ خالد شیخ محمد کے ہاتھوں پاکستان میں امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے قتل کے اعتراف جرم کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ایک امریکی اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ نے امریکی فوج کے ہیڈکوارٹرز پینٹاگون کے حکام کی جانب سے خالد شیخ محمد کے ہاتھوں ڈینیئل پرل کے قتل کی وہ تفصیلات بھی شائع کی ہیں جنہیں امریکی فوج نےگزشتہ دن روک لیا تھا۔ اخبار نے امریکی فوج کی طرف سے خالد شیخ محمد کے جاری کردہ اعترافی بیان کے الفاظ کو بھی نقل کیا ہے جس میں اس نے مبینہ طور کہا ہے ’میں نے پاکستان کے شہر کراچي میں اس امریکی یہودی ڈینیئل پرل کا سر اپنے مبارک دائيں ہاتھ سے قلم کیا تھا‘۔ خالد شیخ کے بیان کے مطابق ’ اگر کسی کو میرے اس بیان پر اعتبار نہ آئے تو وہ تصاویر انٹر نیٹ پر دیکھ سکتے ہیں جن میں اس یہودی (ڈینیئل پرل) کا سر اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہوں‘۔ تاہم دنیا بھر میں انتہاپسند تنظیموں کی ویب سائٹوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ’سائٹ‘ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ انٹر نیٹ پر امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا سر اپنے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے کسی بھی شخص کا چہرہ نہیں دکھایا گیا۔
ایک فوجی ٹرائبیونل میں القاعدہ کے نمبر تین خالد شیخ محمد نے اعترافی بیان میں مزید کہا ہے’وہ (ڈینیئل پرل) یہودی امریکی صحافی اسرائیل کی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کا ایجنٹ تھا اور پاکستان میں شو بمبار رچرڈ ريڈ کی کھوج لگانے آیا تھا کہ وہ اپنے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کیلیے اسرائيل میں کیا کرتا رہا تھا‘۔ تاہم جب خالد شیخ محمد کے اس اعترافی بیان پر تبصرے کے لیے لاس اینجلس میں مقتول صحافی ڈینیئل پرل کے والدین سے مقامی پریس نے رابطہ کیا تو ان کا جواب تھا کہ وہ اس میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ خالد شیخ محمد نے کیا کہا اور وہ (ڈینیئل پرل کے والدین) ڈینیئل کے نام پر قائم کردہ تنظیم ’ڈینیئل پرل فاؤنڈیشن‘ کی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کا مقصد اصل میں اس نفرت کا خاتمہ کرنا ہے جس کا نشانہ ان کا بیٹا بنا۔ | اسی بارے میں میں پرل کا قاتل ہوں:خالد شیخ محمد15 March, 2007 | آس پاس 9/11:خالد شیخ کا ’اعترافِ جرم‘15 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||