BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 March, 2007, 00:35 GMT 05:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرل کا قتل، مزید تفصیلات جاری

 امریکی صحافی ڈینئیل پرل
پرل کو جنوری سنہ دو ہزار دو میں کراچي میں قتل کیا گیا تھا
امریکی فوجی حکام نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے’ماسٹر مائنڈ‘ خالد شیخ محمد کے ہاتھوں پاکستان میں امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے قتل کے اعتراف جرم کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

ایک امریکی اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ نے امریکی فوج کے ہیڈکوارٹرز پینٹاگون کے حکام کی جانب سے خالد شیخ محمد کے ہاتھوں ڈینیئل پرل کے قتل کی وہ تفصیلات بھی شائع کی ہیں جنہیں امریکی فوج نےگزشتہ دن روک لیا تھا۔

اخبار نے امریکی فوج کی طرف سے خالد شیخ محمد کے جاری کردہ اعترافی بیان کے الفاظ کو بھی نقل کیا ہے جس میں اس نے مبینہ طور کہا ہے ’میں نے پاکستان کے شہر کراچي میں اس امریکی یہودی ڈینیئل پرل کا سر اپنے مبارک دائيں ہاتھ سے قلم کیا تھا‘۔

خالد شیخ کے بیان کے مطابق ’ اگر کسی کو میرے اس بیان پر اعتبار نہ آئے تو وہ تصاویر انٹر نیٹ پر دیکھ سکتے ہیں جن میں اس یہودی (ڈینیئل پرل) کا سر اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہوں‘۔

تاہم دنیا بھر میں انتہاپسند تنظیموں کی ویب سائٹوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ’سائٹ‘ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ انٹر نیٹ پر امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا سر اپنے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے کسی بھی شخص کا چہرہ نہیں دکھایا گیا۔

اگر کسی کو میرے اس بیان پر اعتبار نہ آئے تو وہ تصاویر انٹر نیٹ پر دیکھ سکتے ہیں :خالد شیخ محمد

ایک فوجی ٹرائبیونل میں القاعدہ کے نمبر تین خالد شیخ محمد نے اعترافی بیان میں مزید کہا ہے’وہ (ڈینیئل پرل) یہودی امریکی صحافی اسرائیل کی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کا ایجنٹ تھا اور پاکستان میں شو بمبار رچرڈ ريڈ کی کھوج لگانے آیا تھا کہ وہ اپنے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کیلیے اسرائيل میں کیا کرتا رہا تھا‘۔

تاہم جب خالد شیخ محمد کے اس اعترافی بیان پر تبصرے کے لیے لاس اینجلس میں مقتول صحافی ڈینیئل پرل کے والدین سے مقامی پریس نے رابطہ کیا تو ان کا جواب تھا کہ وہ اس میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ خالد شیخ محمد نے کیا کہا اور وہ (ڈینیئل پرل کے والدین) ڈینیئل کے نام پر قائم کردہ تنظیم ’ڈینیئل پرل فاؤنڈیشن‘ کی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کا مقصد اصل میں اس نفرت کا خاتمہ کرنا ہے جس کا نشانہ ان کا بیٹا بنا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد