’غیر انسانی سلوک کا شکار ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے برطانوی شہری عمر شیخ نے حیدرآباد سنٹرل جیل کی انتظامیہ کے ناروا سلوک کی شکایت کی ہے۔ انہوں نے یہ شکایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حیدرآباد کو تحریری طور پر بھیجی اور اس شکایت کے حوالے سے تحقیقات کے لیے جیل جانے والے سول جج کے ساتھ بھی مبینہ طور پر جیل انتظامیہ نے نازیبا رویہ اختیار کیا ہے جس پر جیل حکام سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ عمر شیخ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حیدرآباد کو اپنے والد شیخ سعید کے ذریعے بھیجی جانے والی تحریری شکایت میں کہا ہے کہ’جیل میں میرے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے اور مجھے ایک تنگ اور بدبودار کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے‘۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حیدرآباد نے اس شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ عبدالوحید شیخ کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ عبدالوحید شیخ جب شیخ عمر کا بیان قلمبند کرنے کے لیے جیل پہنچے تو جیل انتظامیہ نے مبینہ طور پر نازیبا رویہ اختیار کیا جس کی بنا پر وہ شیخ عمر کا بیان ریکارڈ کیے بغیر واپس چلے گئے اور واقعے کی رپورٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو پیش کی، جنہوں نے آئی جی جیل خانہ جات سندھ یامین خان اور سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل حیدرآباد کو نوٹس جاری کیے ہیں اور انہیں واقعے کی وضاحت کا حکم دیا ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات سندھ یامین خان کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی نوٹس نہیں ملے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’شیخ عمر کے ساتھ جیل میں کوئی ناروا سلوک نہیں کیا جا رہا۔ انہیں بھی جیل مینوئل کے تحت سہولتیں حاصل ہیں اور پچھلے دنوں ان کے والد نے ان سے ملاقات بھی کی ہے‘۔ سینٹرل جیل حیدرآباد کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ سلیم شیخ نے شیخ عمر کی شکایت سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ سول جج نے اس سلسلے میں جیل کا دورہ کیا تھا۔ عمر سعید شیخ کے والد شیخ سعید کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو دوسرے قیدیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر آواز اٹھانے کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جیل انتظامیہ قیدیوں سے تشدد کر کے بھتہ وصول کرتی ہے اور ’ کالا چکر‘ نامی وارڈ کو اس سلسلے میں عقوبت خانے کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔
شیخ سعید نے کہا کہ ان کا بیٹا عمر پہلے اپنے ساتھی ملزمان کے ساتھ قید تھا لیکن اب اسے ایک الگ تنگ اور بدبودار کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے جہاں گٹر کھلا رہنے کی وجہ سے اتنی شدید بدبو اٹھتی ہے کہ کوئی بیٹھ نہیں سکتا۔ عمر شیخ کو حیدرآباد میں انسداد دہشت گردی کے خصوصی عدالت نے سنہ دو ہزار دو میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیئل پرل کو اغوا کر کے قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی جبکہ دیگر ملزماں شیخ عادل، سلمان ثاقب، اور فہد نسیم کو عمر قید کا حکم سنایا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں ملزمان نے اپیلیں دائر کی تھیں جو اب التواء کا شکار ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی محکمۂ دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد نے ڈینیئل پرل کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ اس پر شیخ عمر کے ساتھی ملزمان کے وکیل رائے بشیر کا کہنا ہے کہ وہ خالد شیخ کے بیان کی مصدقہ نقل حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اسے ملزمان کے بچاؤ کے لیے استعمال کر سکیں۔ | اسی بارے میں پرل کا قتل، مزید تفصیلات جاری17 March, 2007 | آس پاس میں پرل کا قاتل ہوں:خالد شیخ محمد15 March, 2007 | آس پاس عمر شیخ کی اپیل پر سماعت ملتوی12 December, 2006 | پاکستان عمر شیخ اپیل: چار سال بعد سماعت11 December, 2006 | پاکستان ’پرل قتل سے عمر شیخ لاعلم تھے‘27 September, 2006 | پاکستان عمر شیخ کراچی جیل میں منتقل18 May, 2006 | پاکستان ملزم کراچی پولیس کے حوالے04 August, 2005 | پاکستان عمر شیخ اسلام آباد منتقل18 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||