BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 08:15 GMT 13:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حِسبہ بل ریفرنس، سماعت ملتوی

سپریم کورٹ
عدالت نے مزید سماعت انیس فروری تک ملتوی کر دی
پاکستان کی عدالت عظمٰی نے متنازعہ حِسبہ بل کے بارے میں صدارتی ریفرنس کی سماعت صوبہ سرحد حکومت کی درخواست پر آئندہ ماہ تک ملتوی کردی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تشکیل دیے گئے نو رکنی بینچ نے پیر کو سماعت شروع کی تو صوبہ سرحد کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ایم اے قیوم نے عدالت سے درخواست کی کہ صوبائی حکومت نے ابھی اپنا وکیل مقرر نہیں کیا اس لیے ایک ماہ کے لیے مہلت دی جائے۔

چیف جسٹس نے وفاق پاکستان کے وکیل اٹارنی جنرل سے پوچھا تو انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور عدالت نے مزید سماعت انیس فروری تک ملتوی کر دی۔

نو رکنی بینچ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار رضا محمد خان، جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے، جسٹس میاں شاکراللہ جان، جسٹس سید سعید اشہد اور جسٹس ناصر الملک پر مشتمل تھا۔

واضح رہے کہ صوبہ سرحد میں قائم مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت نے صوبے میں نیکی کے فروغ اور بدی کو روکنے کے لیے محتسب کا ایک ادارہ بنانے کے لیے حسبہ قانون منظور کیا تھا۔ اس قانون سے وفاقی حکومت کو خدشہ تھا کہ انتہا پسندی کو فروغ ملے گا اور متوازی عدالتی نظام قائم ہوگا۔

 قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا قانون ہے جس کے خلاف دو بار صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں داخل ہوا۔ پہلی بار جولائی سن دو ہزار پانچ میں جب صوبہ سرحد کی اسمبلی نے حسبہ بل منظور کیا تو صدر نے ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا اور عدالت اعظمیٰ نے اس کی کئی شقوں کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔

ترقی پسند سوچ رکھنے والے بیشتر لوگوں اور بعض تنظیموں کو خدشہ تھا کہ اس قانون کے تحت صوبائی حکومت کے متعلقہ افراد طالبان کی طرز پر نظام قائم کریں گے اور زبردستی داڑھی رکھوانے، نماز نہ پڑھنے اور دیگر اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں سزائیں دیں گے۔

ایسی صورتحال میں وفاقی حکومت کی جانب سے صدر جنرل پرویز مشرف نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عدالت اعظمیٰ کو صدارتی ریفرنس بھیجا اور درخواست کی کہ وہ متعلقہ قانون کا جائزہ لے کر بتائیں کہ اس کی کون سی شقیں آئین سے متصادم ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا قانون ہے جس کے خلاف دو بار صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں داخل ہوا۔ پہلی بار جولائی سن دو ہزار پانچ میں جب صوبہ سرحد کی اسمبلی نے حسبہ بل منظور کیا تو صدر نے ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا اور عدالت اعظمیٰ نے اس کی کئی شقوں کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔

صوبائی حکومت نے دوبارہ گزشتہ برس نومبر میں یہ کہتے ہوئے حِسبہ بل منظور کرایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے اعتراضات دور کرتے ہوئے بل کا متن ترتیب دیا ہے۔ جبکہ اس بل کی مخالفت کرنے والی سیکولر جماعتوں کے نمائندوں کا دعویٰ تھا کہ حسبہ بل کی جن شقوں کو عدالت نے خلاف آئین قرار دیا تھا وہ اب بھی اس میں موجود ہیں۔

سپریم کورٹ کو اب دوبارہ یہ دیکھنا ہے کہ دوبارہ منظور کردہ حسبہ بل کی کون سی شقیں خلاف آئین ہیں۔

اسی بارے میں
حسبہ بل، حکومت مخمصے میں
14 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد