BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 December, 2006, 23:52 GMT 04:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان احتجاج: دو بسیں نذر آتش

بلوچستان احتجاج (فائل فوٹو)
بلوچستان میں پولیس نے بڑے پیمانے پر مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کی اپیل پر جمعہ کے روز بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مظاہروں کے دوران پولیس نے بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی ہیں۔

کوئٹہ میں مظاہرین نے سریاب روڈ پر دو بسوں اور ایک جیپ کو آگ لگا دی ہے۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جمعہ کے روز جب بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکن جماعت کے نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کی سربراہی میں پہنچے تو مظاہرین نےحکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی اور حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔

مظاہرے کے بعد جب قائدین جا رہے تھے تو پولیس نے ساجد ترین کے علاوہ صادق رئیسانی ایڈووکیٹ رزاق لانگو اور غلام فاروق شاہوانی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ساجد ترین نے اس موقع پر کہا صوبہ بھر میں بڑی تعداد میں ان کے کارکنوں اور قائدین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ رینج عبدالقادر تھیبو نے بتایا ہے کہ کوئٹہ میں کل رات سے چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک کل تینتیس قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

بلوچستان میں جاری ان گرفتاریوں کے خلاف سریاب روڈ پر بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور بی این پی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور دو بسوں اور ایک جیپ کو آگ لگا دی ہے جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے۔

عبدالقادر تھیبو نے بتایا ہے کہ پولیس کے پہنچنے کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے ہیں اور اب اس وقت حالات قابو میں ہیں۔

ادھر تربت میں پولیس نے بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کے کوئی چوبیس قائدین اور کارکنوں کو مظاہرے کے بعد گرفتار کیا تھا جن میں سے کچھ کو رہا کر دیا گیا ہے اور اس وقت پولیس اہلکاروں کے مطابق آٹھ افراد گرفتار ہیں۔

گرفتار قائدین میں نیشنل پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر یٰسین بلوچ سابق سپیکر بلوچستان اسمبلی میر اکرم دشتی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے محراب بلوچ ایڈووکیٹ شامل ہیں۔

صادق رئیسانی ایڈووکیٹ نے گرفتاری سے پہلے بتایا تھا کہ جمعہ کے روز بلوچ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر بلوچستان بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے اس بارے میں کسی قسم کا کوئی موقف ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان چوہدری یعقوب نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ یہ گرفتاریاں اس لیے کی جارہی ہیں تاکہ کوئی امن و امان کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد