BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 November, 2006, 17:00 GMT 22:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مدرسوں کی نصابی ڈکٹیشن نامنظور ہے‘
مدرسے کے طلباء
’مدارس میں جہاں دینی تعلیم ہے وہیں عصری تعلیم بھی ہے‘
پاکستان میں وفاق المدارس العربیہ کے سیکرٹری جنرل قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا ہے کہ پاکستانی مدارس کو تعلیم و تربیت اور نصابی معاملات میں حکومت سمیت کسی بھی ملکی یا غیر ملکی طاقت سے ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہیں قاری حنیف نے کہا کہ ’پاکستان کے دینی مدارس آزاد اور خودمختار تعلیمی ادارے ہیں۔ ان اداروں کے نصاب جامد نہیں ہیں بلکہ متحرک ہیں اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’علماء، ماہرینِ تعلیم اور اکابرین وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے نصاب کی اصلاح اور اس میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اس سلسلے میں برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر، صدر مشرف یا کسی سے بھی ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں ہے‘۔

 کیا برطانوی حکومت پاکستانی مدارس کو بھی اس بات کا حق دے گی کہ وہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں تبدیلی کی بات کریں؟
وفاق المدارس

وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل نے یہ بیانات برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کے دورۂ پاکستان کے دوران اس اعلان کے ردعمل میں دیئے ہیں جس میں برطانوی وزیرِ اعظم نے ملک میں مذہبی اعتدال پسندی پھیلانے کے لیے حکومتِ پاکستان کی مالی امداد کو دگنا کرنے اعلان کیا ہے۔

اس رقم کو مدارس کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے اور انتہا پسند مذہبی تعلیمات کو ختم کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔

قاری حنیف نے اسے برطانیہ کی طرف سے پاکستانی مدارس کے تعلیمی طریقۂ کار اور نصاب میں دخل اندازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیا برطانوی حکومت پاکستانی مدارس کو بھی اس بات کا حق دے گی کہ وہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں تبدیلی کی بات کریں؟

انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ مدارس کا نصاب عام سکولوں اور کالجز کے نصاب سے مختلف ہونے کی وجہ سے ملک میں تعلیمی یکسانیت کے منافی ہے۔

جہاد کی تعلیم و تربیت
 ہم تو جہاد کی تعلیم دیتے ہیں لیکن صدر پرویز مشرف جہاد کی ٹریننگ یا تربیت دیتے ہیں
قاری حنیف جالندھری

قاری حنیف نے کہا کہ ’ایسے خیالات لاعلمی پر مبنی ہیں کیونکہ ہمارے دینی مدارس میں جہاں قران و سنت، فقہہ اور دینی علوم کی تعلیم ہے وہیں عصری تعلیم بھی ہے اور ہمارے ہاں انگلش، سائنس اور ریاضی بھی ایک حد تک پڑھائے جاتے ہیں‘۔

وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ ’مدارس خصوصی تعلیمی ادارے ہیں۔ دنیا کے ہر ملک کے اندر مختلف ادارے ہوتے ہیں اور ان میں بعض ادارے مذہبی بھی ہیں۔ حتیٰ کہ برطانیہ، یورپ اور امریکہ میں بھی خصوصی طور پر مذہبی ادارے موجود ہیں۔ چنانچہ ان کا عام تعلیمی نصاب سے کچھ حد تک مختلف ہونا ایک فطری عمل ہے‘۔

انہوں نے پاکستانی مدارس میں جہاد کے نام پر دہشت گردی کی تربیت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے مدارس کا بنیادی مقصد دینی علوم اور قرآن و حدیث کی مہارت ہے۔ جہاں تک جہاد کی بات ہے تو جہاد ہمارے دین کی ایک بنیاد ہے اس لیے ہم جہاد کی تعلیم دیتے ہیں‘۔

قاری حنیف نے مزید کہا کہ ’کسی فن کو پڑھانا غلط نہیں ہے۔ اگر برطانیہ میں کسی ادارے میں ایٹم بم بنانے کا طریقہ سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے تو اسے کبھی بھی دنیا کا کوئی عقلمند شخص غلط نہیں کہےگا۔ ہم تو جہاد کی تعلیم دیتے ہیں لیکن صدر پرویز مشرف جہاد کی ٹریننگ یا تربیت دیتے ہیں‘۔

صدر مشرف سے سوال
 پاکستانی چھاؤنیوں پر لکھا ہوا ہے ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیلِ اللہ۔ اس جہاد سے کیا مراد ہے؟
وفاق المدارس

انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی مدارس نے آج تک کبھی بھی کسی ملک کے خلاف اس طرح کی کوئی تعلیم نہیں دی ہے۔ جہاد کا مفہوم سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جہاد ایک الگ چیز ہے اور دہشت گردی ایک الگ چیز ہے۔ آپ یہ سوال صدر مشرف سے کریں کہ تمام پاکستانی چھاؤنیوں پر لکھا ہوا ہے ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیلِ اللہ۔ اس جہاد سے کیا مراد ہے‘؟

وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل قاری محمد حنیف جالندھری نے اس بات پر زور دیا کہ جہاد کی صحیح معنوں میں تشریح کرنے کی ضرورت ہے اور مغرب کو اس کا مفہوم مسلمانوں سے سمجھنا چاہیئے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر پاکستانی حکمرانوں کے علاوہ پاکستانی علمائے دین سے بھی ملیں تاکہ انہیں جہاد کے صحیح مفہوم سمجھایا جا سکے۔ ان کے بقول مذہبی رہنما مفاہمت اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور مسائل کا حل دوریوں سے نہیں بلکہ میز پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے افہام و تفہیم سے ملتا ہے۔

برطانوی وزیراعظم اور صدرِ پاکستان
برطانوی وزیرِاعظم نے پاکستان میں اعتدال پسندی کی تعلیم کے لیے امداد دگنی کرنے کا اعلان کیا ہے

جہاد کی تعریف بتاتے ہوئے قاری حنیف نے کہا کہ ’جہاد کے بہت سے مفہوم ہیں۔ جہاد غربت، جہالت اور بے روز گاری کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔ ظلم کے خلاف بھی جہاد کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی آپ کا حق چھین رہا ہے، آپ پر حملہ کر رہا ہے، آپ کی زمین یا آپ کے ملک پر قبضہ کر رہا ہے تو اس وقت مجبوری کے درجے میں آپ کو اپنا دفاع کرنا ہے۔ اس دفاع کا نام ہمارے ہاں جہاد ہے۔ مغربی ممالک میں بھی یہ چیزیں موجود ہیں مگر نام کچھ اور ہو گا‘۔

وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل نے یہ بھی بتایا کہ انہیں مدارس کے نصاب کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی ہدایات نہیں ملیں۔

اسی بارے میں
دینی مدارس کے اتحاد کی دھمکی
28 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد