مظاہروں میں لوگوں کی کم دلچسپی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج پاکستان بھر میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر حکومت کی طرف سے کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن اور مدارس پر چھاپوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ تاہم کسی بھی شہر میں ان مظاہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد دیکھنے میں نہیں آئی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آبپارہ چوک پر مظاہرہ ہوا جس میں شریک افراد نے صدر جنرل پرویز مشرف، برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور امریکی صدر جارج بش کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرے میں مقررین نے صدر جنرل پرویز مشرف کی سرکاری ٹیلیوژن پر تقریر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ امریکی اور برطانوی دباؤ کے تحت ملک میں مذہبی جماعتوں کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کے علاوہ لاہور،کراچی اور کوئٹہ سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں جن میں لوگوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں بتائی جا رہی۔ آج مساجد میں جمعے کے خطبات اور مظاہروں میں زیادہ ذکر حکومت کے اس اعلان کا رہا جس کے مطابق تمام مدارس کو اس سال دسمبر تک رجسٹر کیا جائے گا۔مقررین نے مدارس پر حکومتی دباؤ کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے مدارس پر کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کریں گے۔ ان مظاہروں میں زیادہ تعداد متحدہ مجلس عمل کے کارکنان یا مدارس کے طالبعلموں کی رہی اور کہیں بھی عام افراد نے ان مظاہروں میں شرکت نہیں کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||