’بگٹی کی لاش ورثاء کے حوالے کی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کے اتحاد اے آر ڈی کی جانب سے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے سلسلے میں بلائی جانے والی کل جماعتی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی لاش فوری طور پر ان کے ورثاء کے حوالے کی جائے۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ اکبر بگٹی کے قتل کا از خود نوٹس لے اورقتل کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کرے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس واقعےکی تحقیقات کے لیئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، بلوچستان اور وزیرستان میں جاری فوجی ایکشن فوری طور پر بند کیا جائے اور معاملات کے حل کے لیئے سیاسی مذاکرات کا آعاز کیا جائے۔ اعلامیے میں اکبر بگٹی کے قتل کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ باب قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ایک ماورائے عدالت قتل ہے اور صدر مشرف کو اس قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیئے۔ بیان کے مطابق فوجی ڈکٹیٹروں کی جانب سے ہر مسئلے کو بندوق کے ذریعے حل کرنے کی پالیسی کی وجہ سے پاکستان کی سالمیت اور وفاق کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے کیونکہ یہی پالیسی ماضی میں ملک کو دو ٹکڑے کرنے کی وجہ بنی تھی اور اس قتل سے سیاسی عمل میں فوجی دخل اندازی کی وجہ سے ملک کو درپیش مسائل ایک مرتبہ پھر منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مخدوم امین فہیم نے کہا کہ اسمبلی سے استعفے دینے کا فیصلہ مشترکہ اپوزیشن کے فورم میں کیا جائے گا اور اس کے لیئے صحیح وقت کا انتخاب ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کے قتل کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد انہوں نے اے آر ڈی کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اتحاد میں شامل رہنماؤں کے اصرار پر انہوں نے یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ مخدوم امین فہیم نے کل جماعتی کانفرنس کی جانب سے بلوچ عوام سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر چاروں صوبائی اسمبلیوں کے باہر مظاہروں اور پندرہ ستمبر کو کوئٹہ میں اپوزیشن کی پبلک میٹنگ کے انعقاد کا بھی اعلان کیا۔ کل جماعتی کانفرنس سے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی لندن سے بذریعہ ٹیلی فون خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کا سبب منتخب قیادت کا نہ ہونا ہے اور اکبر بگٹی کے قتل کے بعد پاکستان ایک نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ اکبر بگٹی کو نشانہ بنا کر مارا گیا اور اسے اتفاقی حادثہ کہنا کسی طرح سے درست نہیں۔ پارلیمان سے استعفوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ن) اس معاملے میں مشترکہ اپوزیشن کے فیصلے کی مکمل حمایت کرے گی۔ |
اسی بارے میں ’بگٹی کی ہلاکت کی تحقیقات کرائیں‘30 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی میت پر اٹھتے سوالات30 August, 2006 | پاکستان بگٹی ہلاکت: بدلتے بیانات سے الجھاؤ31 August, 2006 | پاکستان ’غار میں اکبر بگٹی کی لاش دکھائی دی‘31 August, 2006 | پاکستان مسلح جدوجہد مؤثر ذریعہ ہے: مری31 August, 2006 | پاکستان ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان بگٹی نماز جنازہ: ہزاروں کی شرکت29 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||