اسلام آباد:اسمبلی اجلاس ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکومت کو واضح اکثریت ہونے کے باوجود بھی جمعہ کے روز اس وقت بے بسی اور سبکی کا سامنہ کرنا پڑا جب ایک بار پھر وہ ’ کورم ‘پورا کرنے میں ناکام رہی اور اجلاس کی کارروائی نہیں چلاسکی۔ اس صورتحال کی وجہ سے اجلاس کی کارروائی ٹھپ ہوگئی اور حکومت حدود قوانین میں ترامیم کے بل سمیت دیگر ایجنڈا پر کارروائی کرنے میں ناکام ہوگئی۔ اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی تو ایوان میں حزب مخالف اورحکومتی اراکین کی تعداد کم تھی لیکن کچھ دیر بعد حزب مخالف کے اراکین ایوان سے خاموشی کے ساتھ باہر چلےگئے ۔ اس موقع پر قاری گل رحمٰن نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر سپیکر نےگنتی کرائی تو کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی معطل کردی۔ حکومتی اتحاد کے چیف وہپ سردار نصراللہ دریشک اپنے حامی اراکین کو لابیوں میں ڈھونڈتے رہے اور فون کرتے رہے۔لیکن پھر بھی جب تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں دو سو کے قریب حکومت کے حامی اراکین میں سے کورم پورا کرنے کے لیے حکومت چھیاسی ممبران کی موجودگی یقینی نہیں بنا سکی تو سپیکر نے اجلاس کی کارروائی پیر کی شام تک ملتوی کردی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید قربان علی شاہ کے مطابق حکومت متنازعہ حدود آرڈیننس میں ترامیم کا بل ایوان میں پیش کرکے حزب مخالف کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اب خود تقسیم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت حدود قوانین کے خلاف ہے اور ان کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے جبکہ متحدہ مجلس عمل ان قوانین میں ترامیم کی مخالف ہے۔ واضح رہے کہ حزب مخالف نے تئیس اگست کو وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور اس سے محض پانچ روز قبل حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ ایسی صورتحال میں حزب مخالف کا دعویٰ ہے کہ حکومت کے کئی اراکین سٹاک مارکیٹ کے مصنوعی بحران اور سٹیل ملز کی سپریم کورٹ کی جانب سے نجکاری کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد حکومت کے اندرونی طور پر مخالف ہیں۔ حکومت نے اس دعوے کو حزب مخالف کی خام خیالی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ |
اسی بارے میں سٹیل ملز: قومی اسمبلی کو تسلی17 August, 2006 | پاکستان اسمبلی، شراب، ’جُغادری لکھاری‘09 August, 2006 | پاکستان ارکانِ قومی اسمبلی کا حلوہ کرکرا21 June, 2006 | پاکستان ’حکومت کے با اثر افراد ملوث تھے‘10 May, 2006 | پاکستان قومی اسمبلی میں احتجاج، واک آؤٹ16 December, 2005 | پاکستان ارکانِ اسمبلی زلزلے کو بھول گئے06 December, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||