وولر بیراج پر مذاکرات شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے جہلم پر بننے والے متنازعہ وولر بیراج یا ’تل بل نیوی گیشن‘ منصوبے کے بارے میں دو روزہ بات چیت اسلام آباد میں شروع ہوگئی ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت پانی اور بجلی کے سیکریٹری اشفاق محمود جبکہ بھارتی وفد کی قیادت وزارت برائے ’واٹر ریسورز‘ کے سربراہ جے ہری نارائن کر رہے ہیں۔ باضابطہ مذاکرات سے قبل بھارتی وفد کے سربراہ نے صحافیوں سے مختصر بات چیت میں کہا کہ وہ تُل بُل نیوی گیشن کے منصوبے پر بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تاحال ہونے والی بات چیت کی پیش رفت سے وہ مطمئن ہیں۔ واضح رہے کہ وادیِ کشمیر میں سوپور کے قریب دریائے جہلم پر بھارت نے انیس سو چراسی میں جب اس متنازعہ منصوبے کا آغاز کیا تو پاکستان نے اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ بھارت انیس سو ساٹھ میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے پانی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے ’واٹر کمیشن‘ کے ماہرین کے درمیان بات چیت شروع ہوئی اور جب کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو پاکستان نے عالمی عدالت میں جانے پر غور شروع کیا اور بھارت نے اس مجوزہ منصوبے پر کام روک دیا۔ پاکستان نے اِس منصوبے کو وولر بیراج جبکہ بھارت نے اُسے تل بل نیوی گیشن کے منصوبے کا نام دے رکھا ہے۔
بھارت دریائے جہلم پر بیراج بنا کر ایک جھیل بنانا چاہتا ہے جس میں 0.3 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ پاکستان بھارت کے منصوبے کا ڈیزائن تبدیل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ بھارت کہتا ہے کہ وہ موسم گرما میں جب پانی کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہے تو وہ اپنے حصے کا پانی ذخیرہ کرے گا۔ لیکن پاکستان کو خدشہ ہے کہ بھارت ان کے خلاف اس منصوبے کو ’سٹریٹجک ویپن‘ کے طور پر استعمال کرے گا اور اس کی تین نہروں اپر جہلم، اپر چناب اور لوئر باری دوآب کینال میں پانی کی قلت پیدا ہوگی۔ بھارت اور پاکستان کے واٹر کمیشن کے سربراہان ڈی کے مہتا اور جماعت علی شاہ بھی بات چیت میں شریک ہیں اور اُن دونوں کی سربراہی میں پچیس اور چھبیس تاریخ کو لاہور میں بات چیت ہونا ہے جس میں سیلاب وغیرہ کی صورت میں ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کرنے کے معاہدے کی توثیق بھی ہوگی۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ بیس برسوں سے متنازعہ بنے ہوئے اِس آبی منصوبے کے متعلق ایک درجن سے زائد مرتبہ بات چیت کے ادوار ہوئے ہیں لیکن تاحال مذاکرات بے نتیجہ ہی رہے ہیں۔ دونوں ممالک میں سن دو ہزار چار میں شروع ہونے والے جامع مذاکرات کے تیسرے دور کے سلسلے میں اب یہ بات چیت ہو رہی ہے۔ آبی ماہرین کہتے ہیں کہ دونوں ممالک میں اس منصوبے کی فنی نوعیت سے زیادہ خدشات اعتماد سازی کے فقدان کی وجہ سے ہیں۔ | اسی بارے میں پاک بھارت مشترکہ اعلامیہ کا اعلان31 May, 2006 | پاکستان سکیورٹی معاملات پر دو روزہ مذاکرات29 May, 2006 | پاکستان منموہن سنگھ کے بیان کا خیر مقدم26 May, 2006 | پاکستان سیاچن مذاکرات پھر شروع23 May, 2006 | پاکستان حزب اختلاف کا وفد انڈیا روانہ08 May, 2006 | پاکستان ایل او سی پر نئی چوکیاں نہیں27 April, 2006 | پاکستان جوہری اعتمادسازی، اتفاقِ رائےنہ ہو سکا26 April, 2006 | پاکستان جوہری مذاکرات: مثبت ماحول 25 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||