BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برڈ فلو علامات کسی میں نہیں‘

 اسلام آباد مرغیاں
اسلام آباد میں ہزاروں مرغیوں کو تلف کیا گیا ہے۔
پاکستان کی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ملک میں کسی انسان میں برڈ فلو یا ہیومن ایوین انفلواینزا کی علامات نہیں ملی ہیں اور جن پولٹری فارموں میں مرغیوں میں ایچ فائیو این ون وائرس پایا گیا ہے وہاں مرغیوں کو تلف کیا جا چکا ہے۔

وزارت نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ اچھی طرح پکی ہوئی مرغی سے برڈ فلو انسانوں میں منتقل نہیں ہوتا۔

وزارت صحت کے سیکرٹری انور محمود نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جن پولٹری فارموں میں برڈ فلو کا وائرس پایا گیا ہے ان کے تین کلومیٹر کے اطراف میں لوگوں کے ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں تاہم ابھی تک کسی بھی انسان میں یہ وائرس نہیں پایا گیا۔

پاکستان میں ستائیس فروری کو صوبہ سرحد کے دو شہروں ایبٹ آباد اور چار سدہ کے دو پولٹری فارموں میں چھبیس ہزار سے زائد مرغیوں کو اس وائرس کے پائے جانے کے بعد تلف کر دیا گیا تھا اور اس پولٹری فارموں میں کام کرنے والے سولہ افراد کے ٹیسٹ کروائے گئے جن میں یہ وائرس نہیں پایا گیا۔

اس ماہ کی سولہ تاریخ کو اسلام آباد کے علاقے سہالہ میں ایک پولٹری فارم میں مرغیوں میں ایچ فائیو این ون وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے بعد ساڑھے تین ہزار سے زائد مرغیاں تلف کی گئیں اور تب سے اب تک پچیس افراد کے ٹیسٹ کروائے جا چکے ہیں جن میں بخار اور نزلے کی علامات پائی گئیں۔

تاہم وزارت صحت کے مطابق ان میں سے تئیس افراد کو ٹیسٹ کے بعد ہسپتالوں سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ دو افراد کے ٹیسٹ کی رپورٹ کل تک آ جائے گی۔سہالہ میں مزید آٹھ ہزار مرغیوں کو بھی تلف کیا گیا ہے۔

ترلائی کے پانچ فارموں میں اس وائرس کی موجودگی کے بعد نو ہزار سے زائد مرغیوں کو گزشتہ تین روز میں تلف کیا جا چکا ہے۔

وزارت زراعت کے اینمل ہزبینڈری کمشنر محمد افضل کے مطابق ملک کے تمام پولٹری فارموں میں اس وائرس کا ٹیسٹ کروانے کے احکامات جاری کئے جا چکے ہیں

وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ملک میں برڈ فلو سے بچاؤ کے لئے تمام انتظامات کئے ہیں اور تمام ہسپتالوں میں برڈ فلو کے مشتبہ مریضوں کے لئے علیحدہ وارڈ بھی مختص کر دیئے گئے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ برڈ فلو کے بارے میں سنسنی پھیلانے سے گریز کریں۔

وزارت صحت کے سیکریٹری انور محمود نے کہا کہ حکومت برڈ فلو کے بارے میں عوام سے کچھ نہیں چھپائے گی اور اگر برڈ فلو کا کوئی کیس سامنے آتا ہے تو اس کے بارے میں فورا بتا دیا جائے گا۔

اسی بارے میں
مرغی کی جگہ دلی کا ’بیف‘
29 March, 2006 | پاکستان
گھر کی دال مرغی برابر؟
25 March, 2006 | پاکستان
بکرے، گائے کا گوشت مہنگا
23 March, 2006 | پاکستان
سرحد میں 25000 مرغیاں تلف
28 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد