امام بارگاہ کوئٹہ پر حملے کاملزم گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پولیس نے امام بارگاہ پر حملے کے ایک ملزم اور کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے اہم رکن کو گرفتار کیا ہے جس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ یہ گرفتاری پیر کو سریاب کے علاقے سے کی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملزم ڈاکٹر منیر کا مستونگ میں ایک کلینک تھا جہاں دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر سن دو ہزار تین میں امام بارگاہ میکانگی روڈ پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ وزیر خان نے بتایا ہے کہ ملزم ڈاکٹر منیر اس حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے جس سے مزید معلومات ملنے کی توقع ہے۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ملزم پولیس کو مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری پر انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔ کوئٹہ میں جولائی دو ہزار تین میں امام بارگاہ پر نا معلوم افراد نے خودکش حملہ کیا تھا جس میں لگ بھگ پچاس افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ ملزمان نے ظاہری طور پر پھلوں کی ایک ریڑھی کے اندر اسلحہ چھپا رکھا تھا اور جب لوگ جمعہ نماز کی دوسری رکعت کے لیے کھڑے تھے تو یہ لوگ امام بارگاہ سے متصل مسجد میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کر دی تھی۔ اس واقعہ سے ایک ماہ پہلے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر نا معلوم افراد نے پولیس کیڈٹس کی گاڑی پر حملہ کیا تھا جس میں اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے افراد سوار تھے۔ اس حملے میں بارہ کیڈٹس ہلاک ہو گئے تھے۔ وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ اس سے پہلے داؤد بادینی اور شمیم نامی اہم ملزمان کو گرفتار کیا جا چکاہے جبکہ کچھ ابھی تک باقی ہیں جن کی گرفتاری کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ | اسی بارے میں کوئٹہ میں پھر دھماکے25 December, 2003 | پاکستان کوئٹہ: دھماکوں میں دو زخمی20 December, 2003 | پاکستان کوئٹہ: دھماکے میں لڑکا ہلاک12 December, 2003 | پاکستان کوئٹہ: دھماکوں میں نو افراد زخمی10 November, 2003 | پاکستان بلوچستان میں پولیس پر حملہ24 October, 2003 | پاکستان کوئٹہ میں تین بم دھماکے20 October, 2003 | پاکستان ریلوے انجن پر حملہ، ڈرائیور ہلاک03 October, 2003 | پاکستان بلوچستان کے لیے ناخوشگوار سال01 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||