| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے لیے ناخوشگوار سال
بلوچستان میں سال دو ہزار تین کوئی خوشگوار یادیں چھوڑ کر نہیں گیا۔ اس سال مجموعی طور پر تین سو دس افراد مختلف واقعات میں قتل ہوئے اور دو سو اسّی کے لگ بھگ زخمی۔ اس سال فرقہ وارانہ تشدد اور گیس پائپ لائن پر حملوں کے علاوہ بم دھماکوں اور راکٹ فائرنگ کا سلسہ ایک مرتبہ پھر شروع ہوا اور صرف کوئٹہ شہر میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ساٹھ افراد قتل اور چالیس کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ ان میں امام بارگاہ پر خود کش حملہ اور پولیس کے کیڈٹس کا قتل بھی شامل ہے ان پولیس کیڈٹس کا تعلق بھی شیعہ ہزارہ کمیونٹی سے بتایا گیا ہے۔ امام بارگاہ اثناء عشری پر چار جولائی کو جمعہ نماز کے وقت حملہ کیا گیا جس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیالیس نمازی قتل اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ جب کہ وہ تین حملہ آور بھی ہلاک ہوئے، جن میں سے ایک نے اپنے جسم کے ساتھ بندھے بموں کی پن کھینچی تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پچاس سے زیادہ تھی اس واقعہ کے بعد علاقے میں فسادات پھوٹ پڑے گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگائی گئی، ایک مدرسے کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا اور وہاں زیر تعلیم طالب علوں کو محصور بنا لیا گیا تھا جس کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کیا گیا۔ پولیس حکام نے اس وقت کہا تھا کہ حملہ آوروں کو شناخت کرلیا گیا ہے ان حملوں کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے ایک وڈیو کیسٹ کے ذریعے قبول کی جس میں حملہ آوروں کو دکھایا گیا ہے اور جو حملہ سے پہلے حملے کے بارے میں بتاتے ہیں اس بارے میں پولیس حکام نے شمیم نامی شخص کو گرفتار کیا جبکہ دو افراد تاحال روپوش ہیں حکومت نے ان کی گرفتاری پر انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس حملے کے بعد صوبائی سیکرٹری داخلہ کو تبدیل کر دیا گیا، صوبائی وزیر داخلہ سردار ثناءاللہ زہری نے استعفی دے دیا اور گورنر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بھی کوئی وجہ بتائے بغیر مستعفی ہو گئے۔
آٹھ جون دو ہزار تین کو بھی فرقہ وارانہ تشدد کے ایک واقعے میں بارہ پولیس کیڈٹس کو اندھا دھند فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ جبکہ تین کیڈٹس زخمی ہوئے اور ان سب افراد کا تعلق شیعہ ہزارہ قبیلے سے بتایا گیا۔ پولیس نے کہا تھا کہ اس حملے میں وہی ایک گروہ ملوث ہے بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات نہ ہونے کے برابر تھے لیکن دو ہزار تین میں ان واقعات میں کافی اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ بھی فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں کم سے کم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سال کے اوائل میں بلوچستان پنجاب اور سندھ کے سرحدی علاقے میں گیس پائپ لائن پر حملے کیے گئے جس سے پنجاب اور سرحد کو گیس کی سپلائی منقطع رہی، گیس کمپنیوں کے مطابق ان حملوں سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا اس کے علاوہ پنجاب اور سرحد میں صنعتیں بند رہیں اور گھریلو استعمال کے لیے بھی گیس نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بری طرح متاثر ہوئے۔ ڈیرہ بگٹی کے نوجوانوں نے گیس کمپنیوں میں روزگار کے لیے ہڑتالیں اور احتجاج کیے جس میں ایک احتجاجی ہلاک بھی ہوا۔ اس کے علاوہ چمن کے قریب پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا، افغان حکام نے بیس کے قریب افراد کو طالبان کے شبہ میں ہلاک کرکے پاکستان کی سرحد کے اندر پھینک دیا، جس سے حالات ابتر ہوگئے۔
اس کے بعد پاکستان نے سرحد پر ایف سی کے اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کردیا، تجاوزات ختم کردی گئیں، سرچ لائٹس اور خفیہ کیمرے نصب کر دیے گئے اور اس کے علاوہ آنے جانے والے افراد کے لیے سفری کاغذات ضروری قرار دیے گئے۔ سال کے آخر میں کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی بم دھماکوں اور راکٹ فائرنگ کے واقعات کے علاوہ پولیس پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||