| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں پولیس پر حملہ
وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے آبائی شہر جعفر آباد میں نا معلوم افراد نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا ہے جس سے دو پولیس اہلکار اور ایک بچہ ہلاک ہوگیا ہے جبکہ ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہوا ہے۔ ایک ہفتے میں اس علاقے میں پولیس پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔ جعفر آباد کے تھانہ صحبت پور کی ایک پولیس چوکی میں کوئی تین سپاہی اور ایک سپاہی کاسات سالہ بیٹا موجود تھا کہ اچانک رات بارہ بجے کے لگ بھگ نامعلوم افراد نے چوکی کو گھیرے میں لے لیا اور شدید فائرنگ شروع کر دی جس سے دو سپاہی اور ایک سپاہی کا بیٹا ہلاک ہو گئے۔ جبکہ ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہوا ہے۔ پولیس حکام موقع پر پہنچ گئے ہیں اور تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ جعفر آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا ہے تا حال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ آور کون تھے۔ بہرحال یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں صوبہ سندھ کی سرحد کے قریب بڑی تعداد میں اشتہاری ملزمان روپوش ہیں اور یہ کارروائی ان کی ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے نا معلوم افراد نے جعفر آباد کے علاقہ آر ڈی دو سو اڑتیس میں پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا تھا جس سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ جعفر آباد سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے اس واقعے کے بعد علاقے میں ایک بڑا آپریشن کیا تھا جس میں کوئی بائیس گھر مسمار کر دیے گئے تھے اور لگ بھگ بیس افراد کو شک کی بنیاد پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس آپریشن سے پہلے اصل ملزمان فرار ہو چکے تھے۔ حکومت نے اس علاقے میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے فرنٹیئر کور کی چوکیاں بھی قائم کی ہیں اور اس علاقے میں نفری بھی بڑھائی گئی ہے لیکن اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج برامد نہیں ہوئے۔ ماہرین کے مطابق ان علاقوں میں روپوش ملزمان کافی منظم ہیں ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ اس علاقے میں پولیس کی نفری بہت کم ہے۔ ایک چوکی پر تین سے چار افراد موجود ہوتے ہیں جبکہ ملزمان درجنوں کے حساب سے آتےہیں اور حملہ کرکے فرار ہوجاتے ہیں ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||